۔ 30 ستمبر کو سماعت
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے اڈانی گروپ کی جانب سے بجلی خرید کے معاہدے کو ختم کرنے کے معاملے میں گجرات اورجا -وکاس لمیٹیڈ (جی یو وی ایل) کی کیوریٹیو پیٹیشن (ترمیمی عرضی) پر نوٹس جاری کیا ہے ۔ چیف جسٹس این وی رمن، جسٹس ادے امیش للت، جسٹس اے ایم کھانوِلکر، جسٹس بی آر گوئی اور جسٹس سوریہ کانت کی آئینی بنچ نے جمعرات کو بند کمرے میں شنوائی کرتے ہوئے کہا کہ اس کے خیال سے کیوریٹیو پیٹیشن میں قانون کے وسیع سوالات اٹھائے گئے ہیں جن پر غور وخوض کیا جانا ضروری ہے ۔ اسی کے ساتھ عدالت نے اڈانی پاور کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں 30 ستمبر کو اوپن کورٹ میں شنوائی ہوئی گی۔ اڈانی پاور نے جی یو وی ایل کے ساتھ بجلی خرید قرار یہ کہتے ہوئے توڑ دیا تھا کہ گجرات مِنرل ڈیویلپمنٹ کارپوریشن (جی ایم ڈی سی) اسے کوئلہ سپلائی کرنے میں ناکام رہا ہے ۔ اس کے خلاف جی یو وی ایل نے گجرات پاور ریگولیٹری کمیشن کا دروازہ کھٹکھٹایا اور جس نے قرار رد کیے جانے کو غیرقانونی قرار دیا تھا۔ اس کے خلاف اڈانی نے وہ اپیلٹ ٹریبونل گیا اور اس نے بھی کمیشن کے فیصلے درست قرار دیا۔ اس کے بعد اڈانی گروپ نے سپریم کورٹ کا رخ کیا تھا اور وہاں سے اسے راحت ملی تھی۔ سپریم کورٹ کے دو جولائی 2019 کے اس فیصلے کے خلاف جی یو وی ایل نے نظرثانی کی عرضی دائر کی تھی جسے گذشتہ تین ستمبر کو خارج کر دیاگیا۔ بالآخر جی یو وی ایل نے کیوریٹیو پیٹیشن دائر کی ہے جس پر بند کمرے میں ہوئی شنوائی کے دوران سپریم کورٹ نے نوٹس جاری کیا ہے ۔