حدیث

   

نبی کریم ﷺ مومنوں کی جان کے مالک !
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي اللہ عنه عَنِ النَّبِيِّ صلي اللہ عليه وآله وسلم قَالَ : مَا مِنْ مُؤْمِنٍ إِلاَّ وَأَنَا أَوْلَي النَّاسِ بِهٖ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ، اقْرَؤُوْا إِنْ شِئْتُمْ : (اَلنَّبِيُّ أَوْلٰي بِالْمُؤْمنِيْنَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ) (الأحزاب،۳۳:۶)  فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ تَرَکَ مَالاً فَلْيَرِثْهُ عَصَبَتُهُ مَنْ کَانُوْا، فَإِنْ تَرَکَ دَيْنًا، أَوْضِيَاعًا فَلْيَأْتِنِي وَأَنَا مَوْلَاهُ.
رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَالدَّارِمِيُّ.
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کوئی مومن ایسا نہیں کہ دنیا و آخرت میں جس کی جان کا میں اس سے بھی زیادہ مالک نہ ہوں۔ اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو : ’’نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مومنوں کے لئے ان کی جانوں سے بھی زیادہ قریب ہیں۔‘‘ (الاحزاب، ۳۳:۶) سو جو مسلمان مال چھوڑ کر مرے تو جو بھی اس کا خاندان ہوگا وہی اس کا وارث ہوگا لیکن اگر قرض یا بچے چھوڑ کر مرے تو وہ بچے میرے پاس آئیں میں ان کا سرپرست ہوں (اور میرے بعد میرا نظامِ حکومت یہ دونوں ذِمّہ داریاں نبھائے گا)‘‘۔