حسین ساگر میں کشتی رانی کو فروغ دینے نئی کروز بوٹ متعارف

   

عصری خصوصیات کی حامل مکمل ایئر کنڈیشن کشتی میں ایک گھنٹہ تفریح کیلئے 300روپئے ٹکٹ
حیدرآباد: تلنگانہ کے محکمہ سیاحت اپنی کشتیوں کے بیڑے میں ایک نئی کیٹماران کروز بوٹ کا اضافہ کر رہا ہے جسے حسین ساگر میں کشتی رانی کے فروغ کیلئے استعمال کیا جائے گا تاکہ حیدرآباد کی حسین ساگر جھیل میں کشتی رانی کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کیا جا سکے۔جھیل کے کنارے نئی کیٹاماران کشتی کو حتمی شکل دینے کا کام جاری ہے جس کے بعد اسے عوام کیلئے شروع کر دیا جائے گا۔کیٹاماران کشتی کئی خصوصیات کی حامل ہے۔دو انجنوں والی اس کشتی میں نچلا اور اوپری ڈیک ہے اور یہ اتنی کشادہ ہے کہ ایک گھنٹے میں 100سیاحوںکو لے جایا جا سکتا ہے۔ کشتی کی لمبائی 22 میٹر اور چوڑائی 8 میٹر ہے۔حسین ساگر میں سیاحوں کیلئے نئی کیٹاماران کروز بوٹ کا آغاز 22 جولائی منگل سے ہو رہا ہے۔محکمہ سیاحت کے ذرائع کے مطابق حسین ساگر میں کشتی رانی سے ماہانہ اوسطاً 1.5 کروڑ روپے کی آمدنی ہوتی ہے۔ سیاحوں کو ایک گھنٹے تک جھیل کے گرد گھومنے کیلئے 300 روپے فی سیاح وصول کر رہا ہے۔ اس طرح محکمہ کو ہر ٹرپ کیلئے 25ہزار روپے سے 30ہزار روپے سے زیادہ آمدنی ہوگی ۔نئی کشتی مرکزی طور پر ایئر کنڈیشنڈ ہوگی ۔ یہ کشی تقریباً 3 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار کی گئی ہے۔اسی طرح کی کروز خدمات حیدرآباد کے دیگر سیاحتی مقامات بشمول درگم چیروو، سومسیلا پر پیش کی جارہی ہیں جو کشتی رانی کو ایک پرکشش اور انتہائی منافع بخش سروس بناتی ہے۔حسین ساگر جسے ابراہیم قلی قطب شاہ نے 1563 میں تعمیر کیا تھا حیدرآباد کے مشہور سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے۔دل کی شکل والی جھیل کا نام فن تعمیر کے ماہر حسین شاہ ولی کے نام پر رکھا گیا ہے۔ عثمان ساگر اور حمایت ساگر کی تعمیر سے پہلے یہ پانی کی فراہمی کا اہم ذریعہ تھا۔جھیل کے مرکز میں بدھا کا مجسمہ 1992 میں نصب کیا گیا ۔فی الحال حسین ساگر جھیل پر 26 جولائی تک حیدرآباد سیلنگ ویک جاری ہے۔