حضرت فاطمہ زہرا ؑکے فضائل و مناقب

   

علامہ ڈاکٹر میر زا شبیر علی شیرازی
حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام جگر گوشئہ رسول، سیدہ نساء عالمین ، خاتون جنت بنتِ سردار انبیاءؐ، زوجہ حضرت امیر المومنین، مادر حسنین علیہم السلام ہیں۔ آپ کی ولادت باسعادت بعثت کے پانچویں سال مکہ مکرمہ میں روز جمعہ ہوئی۔ آپ کی عظمت کے لیے یہی کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی ولادت کو نبی اکرم کے لئے باعث تسکین اور عظیم نعمت قرار دیا۔ سیدہ دو عالم نے اپنے والد بزرگوار رسولِ خدا کے وصال کے ۳ مہینے بعد تیسری جمادی الثانی (ایک روایت کے مطابق ۱۳؍ جمادی الاول ) سن ۱۱ ہجری قمری میں دنیا سے پردہ فرمایا۔ آپ کی وصیت کے مطابق آپ کا جنازہ رات کو اُٹھایا گیا ۔
آپ کے والد گرامی حضرت محمد مصطفی ﷺاور والدہ ماجدہ حضرت خدیجۃ الکبری سلام اللہ علیہا ہیں۔ آپ پہلی خاتون ہیں جنہوں نے بچپن ہی میں اسلام قبول کیا اور اپنی جان و مال سے نبی اکرم ﷺ  کا دفاع کیا۔حضرت رسولِ خدا ﷺنے فرمایا : میری بیٹی فاطمہ جنت میں داخل ہونے والی پہلی شخصیت ہیں۔ آپ ﷺنے فرمایا: فاطمہ میرے جسم کا ٹکڑا ہے، جو میرا حصہ ہے وہ میرا ہی حصہ ہے۔ جس نے اسے تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی، اور جس نے مجھے تکلیف دی اُس نے خدا کو تکلیف دی۔
حضرت فاطمہ علیہا السلام ایک باوقار خاتون تھیں۔ رسول اللہ ﷺ جب بھی جنت کی خوشبو سونگھنے کے مشتاق ہوتے تو فرماتے : ”میں جب بھی فاطمہ کا بوسہ لیتا ہوں تو اس سے درخت طوبی کی خوشبو آتی ہے“ ۔آپ ایک بردبار، پاکیزہ اور پاکدامن خاتون ہیں جنہوں نے خود فرمایا: ”عورت کے لیے بہترین چیز یہ ہے کہ وہ نہ کسی غیر مرد کو دیکھے اور نہ کوئی غیر مرد اسے دیکھے“ ۔ آپ نے یہ بھی فرمایا : ”جب عورت اپنے گھر میں چھپی ہو تو خدا کے قرب کا ذریعہ بن جاتی ہے“ ۔
آپ ایمان کے اعلیٰ درجہ پر فائز ہیں ۔ آپ کی عبادت بھی بے مثال تھیں ۔ حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں : میں نے اپنی والدہ کو دیکھا کہ وہ جمعہ کی رات محراب عبادت میں کھڑی ہوکر عبادت اور سجدے میں مصروف تھیں اور وہ مومنین اور مومنات کے لئے دعا کررہی تھیں ۔ میں نے عرض کیا : اماں جان ! آپ اپنے لئے دعا کیوں نہیں کرتیں ؟ فرمایا بیٹا ! پہلے ہمسایہ ، پھر اپنا گھر ۔ حضرت فاطمہ علیہا السلام ایک ایسی عالمہ ہیں جنہوں نے کسی درسگاہ یا مدرسہ میں تعلیم حاصل نہیں کیں۔ آپ حضرت رسول اکرم ﷺکی زیرتربیت رہیں۔ آپ کی اولاد کی پرورش، شوہر کی رہنمائی اور قوم، بالخصوص مسلم خواتین کیلئے نمونۂ عمل ہونے کے سلسلے میں نبی ﷺ کا تعلیمی کردار اور عملی نمونہ آپ کی زندگی میں نمایاں نظر آتا ہے۔ جو اللہ اور رسول ﷺکے علم و عرفان کے اعلیٰ درجے کی نشاندہی کرتی ہے۔ حضرت فاطمہ علیہا السلام قرآن مجید کے بہت سے علوم اور سابقہ مذاہب اور اقوام کے مسائل اور معاملات سے واقف تھیں اور آپ کو ان پر گرفت حاصل تھی۔ آپ دینی سوالات اور خواتین کے احکام کے جواب دیتی تھیں۔آپ کی زندگی آپ کی ایمانداری اور سچائی کی بہترین دلیل ہے۔ اس لیے ان کا نام صدیقہ رکھا گیا، یعنی بہت سچی اور ایسی شخصیت جس نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ جب حضرت عائشہؓ کے پاس حضرت فاطمہ کا ذکر کیا گیا تو آپؓنے فرمایا : رسول اللہ ﷺ کے بعد میں نے فاطمہ سے بڑھ کر کسی کو سچا نہیں پایا۔