Sunday , February 23 2020

حقائق کی جانچ۔ راہول گاندھی اور بی جے پی کے دعوے‘ پلواماں حملے کے وقت وزیراعظم کہاں پر تھے۔

مندرجہ بالا مسیج کانگریس صدر راہول گاندھی نے 22فبروری کی صبح پوسٹ کیا ‘ اور اس میں وزیراعظم نریندر کودیکھاتی ہوئی کچھ تصوئیریں بھی موجود تھیں

مذکورہ تصوئیروں کی بنیاد پر گاندھی وزیراعظم نریندر مودی کو یہ کہتے ہوئے نشانہ بنایا کہ دہشت گرد حملہ منظرعام پر آنے کی جانکاری ملنے کے بعد تین گھنٹوں تک وہ شوٹنگ میں مصروف رہے ۔

تفصیلات کے مطابق پلواماں دہشت گرد حملے فبروری14کے روز3:10یا3:15کو پیش آیا ‘ جب دھماکو مادے سے بھری ایک کار سی آر پی ایف جوانوں کے قافلے میں گھس گئی ۔

بی جے پی نے کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ حقائق سے کو توڑ مروڑ کر پیش کررہی ہے اور یہ ویڈیو شوٹ سی آر پی ایف جوانوں کے قافلے پر حملے سے پہلے ہی ختم ہوگیا۔

ٹائمز آف انڈیا سے حکومت کے ایک سینئر عہدیدار نے اپنے بیان میں ‘ یہ دعوی کیاتھا کہ’’فبروری14کی دوپہر ‘ وزیراعظم نریندر مودی نے جیم کاربیٹ نیشنل پارکٹ پر تین پراجکٹس کا اعلان کیا۔مذکورہ تین پراجکٹ بچاؤ کے مرکز ‘ سفاری سہولتیں اورسرویلانس نظام سے متعلق تھے ۔

پھر انہوں نے ٹورازم کے فروغ اور موسمی تبدیلی کے متعلق شعور بیداری کے لئے چھوٹا شوٹ کیا‘ پھر وہاں سے رداراپور میں عوامی جلسہ سے خطاب کرنے کے لئے روانہ ہوگئے۔

کاربیٹ سے رودارا پور کے راستے پر وہ تھے جب 3:30کو حملے کی خبر ائی۔اس کے بعد سے حالات پر وہ 4سے 4:45تک پر فون اورمیٹنگ کے ذریعہ معلوم کرتے رہے۔مذکورہ عہدیدار نے مزیدکہاکہ ’’اتفاق سے وزیر اعظم نے فیصلہ کیا کہ فون پر 5:15پر پانچ سے سات منٹ بات کی ۔

اس کے بعد فوری طور پر بریلی سڑک کے ذریعہ روانہ ہوگئے جہاں سے دہلی کے لئے انہیں ہوائی جہاز پکڑنا تھا‘‘۔عہدیدار نے ٹی او ائی سے یہ بھی کہاکہ وزیراعظم نے دوبارہ رام نگر میں توقف کیا اور حالات کاجائزہ لینے کے بعد ضروری احکامات جاری کئے۔

بی جے پی کادفاع

ٹی او ائی کے مضمون میں اس بات کاخاص طور پر کوئی ذکر نہیں ہے کہ کب شوٹ شروع ہوا اور کہاں پر ختم ہوا ‘ اس وقت معاملے ابتدائی حالات میں تھا۔

بلکہ حکومت کے عہدیداروں نے ’’ معمولی شوٹ‘‘ کا الفاظ کا استعمال کیا جس سے شوٹ کے وقت کا تعین نہیں کیاجاسکتا۔

اس کے علاوہ 4بجے تک وزیراعظم کی سرگرمیوں کا بھی کوئی واضح خلاصہ نہیں کیاگیا۔اس کے علاوہ عہدیدار کے ٹی او ائی کودئے گئے بیان کے مطابق فون کال پر 5:15کے وقت پانچ سے سات منٹ رودرا پور کی سیاسی ریالی سے خطاب کے فوری بعد وزیراعلی بریلی کے لئے بذریعہ سڑک روانہ ہوگئے تھے۔

الٹ نیوز کو ایک فیس بک لائیو ویڈیو ملا جس کو کسی مقامی شخص نے شوٹ کیاتھا جس سے وزیراعظم کے خطاب کی توثیق ہوتی ہے ‘ اور اس دعوی کے تصدیق کو یقینی بناتا ہے۔

ملٹی میڈیارپورٹس کے مطابق مذکورہ وزیراعظم نے کھیننا نولی گیسٹ ہاوز میں تھے جہاں پر انہوں نے یہ شوٹ پورا کیاتھا۔ گیسٹ ہاوز سے روانہ ہونے کے بعد وہ دھنگری گیٹ کے ذریعہ فارسٹ ریزوریر پہنچے ‘ اور بریلی روانگی سے قبل پی ڈبلیو ڈی ریسٹ ہاوز کی طرف بڑھ گئے ۔

مذکورہ مقامات پر مشتمل تصوئیروں کے ساتھ پانچ کیلومیٹر فاصلے کے نقشہ لگائے گئے تھے۔ الٹ نیوز کو فیس بک کے کئی لائیو ویڈیوز ملے جو7:29منٹ کے لکھن پور چنگی رام نگر کے تھے‘ جہاں پر پی ڈبیو ڈی ریسٹ ہاوز کے لئے وزیراعظم نے راستہ اختیار کیاتھا تاکہ بریلی پہنچ سکیں۔

ہم نے لکھن پور چنگی ایک ٹوئٹر صارف جس نے یہ ویڈیوپوسٹ کیاتھا ‘ اس ویڈیو کے مقام کا موازنہ کیا‘ جو اسی مقام سے پوسٹ کیاگیاتھا

प्रधानमंत्री नरेंद्र मोदी का काफिला रामनगर

Posted by Ankit Dangwal on Thursday, February 14, 2019

 

پی ڈبیلو ڈی گیسٹ ہاوز اور کھیننا نولی گیسٹ ہاوزکے درمیان کا مجموعہ فاصلہ37کیلو میٹر ہے۔ امر اجالا کی خبر کے مطابق رام نگر کے پی ڈبیلو ڈی ریسٹ ہاوز میں وزیراعظم نریندر مودی نے 19منٹ گذارے۔

اگر اس بات کو تسلیم کرلیاجائے کہ وزیراعظم نے 7:30بجے وزیراعظم نے لکشمی پور چنوگی کراس کیاتھا تو عام طورسے وزیراعظم 7:00یا7:10کے وقت وہ پی ڈبلیوڈی گیسٹ ہاوز پہنچ گئے ہونگے۔

ہمیں ایک یوٹیوب کا لائیو ویڈیو بھی ملا جس6:19کا ہے جس میں دعوی کیاگیا ہے کہ وزیراعظم رام نگر میں ہیں‘جس سے اس بات کی وضاحت ہوتی ہے کہ اس وقت بھی وزیراعظم فارسٹ ریزور میں ا س وقت بھی موجود تھے۔

 

کھیننا نولی گیسٹ ہاوزسے دھنگاری گیٹ کے لئے قریب بیس کیلو میٹر کے فیصلے کے ساتھ ریزور کی خراب سڑکوں پر تک پہنچے کے بعد اس بات کااندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ وزیراعظم گیسٹ ہاوز سے 5:30کے قریب روانہ ہوئے ہونگے ‘ جو بی جے پی کے اس دعوے کے متضاد ہے جس میں انہوں نے کہاکہ ریالی سے خطاب کرنے کے فوری بعد وزیراعظم بریلی کے لئے5:15کو روانہ ہوگئے۔

تاہم بی جے پی کے اس دعوی کے مطابق کے وزیراعظم رودار پور کے لئے3:30روانہ ہوگئے تھے‘ یہاں پر فارسٹ ریزور میں وزیراعظم کی اس وقت موجودگی کے کوئی شواہد نہیں ہیں۔

بی جے پی کی حالات پر تبادلہ خیال کے لئے جب ان کے کال کے دوران بی جے پی کی ٹائم لائن وزیراعظم کے لوکیشن کے متعلق بند تھی۔مختلف میڈیا رپورٹس اور راست ویڈیوز کی بنیاد پر ‘ الٹ نیوز نے وزیراعظم کے دورے کے امکانی وقت کی تفصیلات اکٹھا کئے ۔

امکانی وقت کی تفصیلات اکٹھا کئے ۔

دوپہر 12:10کو ہیلی کاپٹر کے ذریعہ افضل گڑپ کے سینٹ میری انٹر کالج پہنچے ۔

دوپہر 12:30کو کالا گڑھ ڈیم کے لئے روانہ ہوئے ۔

دوپہر12:45سے 1:15تک رام گڑھ ریزور سے دھیکالا کے لئے کشتی کی سواری تیس سے چالیس منٹ بوٹ رائیڈ

دوپہر1:25سے 1:55 وزیراعظم جیم کاربیٹ پارک( دھیکا لا زون) پہنچے

پلواماں دہشت گرد حملہ3:10کو پیش آیا

رودرا پور کے جلسہ سے 5:15کو فون کال کے ذریعہ خطاب کیا

پی ڈبلیو ڈی گیسٹ ہاوز رام نگر سے بریلی کے لئے 5:30کو وزیراعظم کی روانگی

کاروبیڈ ریزور سے دھنگری گیٹ کی طرف6:00سے 6:15کے وقت کوچ

شام 7:00پی ڈبیلو ڈی ریسٹ ہاوز پہنچے

بریلی سفر کے دوران رام نگر میں رلکھن پور چنگی سے 7:29کو گذرے

کب کشتی کی سواری کے دوران تصوئیریں کھینچے گئیں؟

مذکورہ حملہ3:10-3:15کے درمیان ہوا۔ راہول گاندھی نے چار تصوئیریں پوسٹ کی تھیں‘ جس میں سے تین میں مودی کشتی کی سواری میں کرتے دیکھائی دے رہے تھے۔

یہ کشتی کی سواری رام گنگا سرور سے دھیکالا سے ہوئی تھی اورپلواماں دہشت گردحملے سے قبل کا ہے۔

اس کی تصدیق نہ صرف خبروں کے ذرائع بلکہ اتراکھنڈ کے ایک بی جے پی لیڈرکے ٹوئٹ سے بھی تصدیق ہوئی ہے کہ ‘ جس کی پوسٹ کردہ تصویروں میں سے وزیراعظم مودی کی ایک تصوئیر کو راہول گاندھی نے اپنے ٹوئٹ میں بھی استعمال کیا ہے

مذکورہ ٹوئٹ کا وقت نوٹس کریں۔ یہ ٹوئٹ1:52منٹ پر کیاگیا‘ پلواماں حملے سے ایک گھنٹہ قبل۔ اس کے علاوہ ای ڈی اتراکھنڈ نے بھی 14فبروری کو خبر نشر کی تھی کہ وزیراعظم نریندر مودی ’’ کالا گھاٹ بارہ بجے کے قریب پہنچے۔

وہاں پر وہ رام گنگا ڈیم سے لطف اندوز ہوئے۔ ڈیم کا دورہ کرنے کے بعد وزیراعظم نریندر مودی کاربیٹ پارٹ بوٹ کے ذریعہ روانہ ہوئے ۔

چیف منسٹر ترویندر سنگھ روات بھی ان کے ساتھ موجود تھے۔ دوپہر دو بجے وزیراعظم کاربیٹ پارک پہنچے۔وہاں سے وہ دھاکالا کے لئے روانہ ہوئے‘‘۔

اس سے یہ بات صاف ہوگئی ہے کہ کشتی کی سواری کے متعلق وزیراعظم کی تین تصویریں جو راہول گاندھی نے پوسٹ کیاہے ‘ وہ دہشت گرد حملے سے قبل کھینچی گئی ہیں۔ چوتھی تصویر کا کیا ہے؟

چوتھی تصوئیر جو راہول گاندھی نے پوسٹ کی ہے وہ وزیراعظم نریند ر مودی کے پوسٹر کی ہے اور وہ دوسری تصویریوں سے الگ ہے۔

وزیراعظم مودی اس میں کیمرے کی طرف دیکھتے ہوئے نظر آرہے ہیں ‘ جبکہ کیمرے والا تصویر کھینچا نظر آرہا ہے۔یہ تصویر ان تین تصویروں سے الگ ہے جو راہول گاندھی نے پوسٹ کی ہیں‘ جس میں وزیراعظم نریندر مودی الگ کپڑوں میں دیکھائی دے رہے ہیں ۔

اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ تصوئیر دوسرے وقت میں لی گئی ہے۔ ہم نے اس تصویر کو قریب کرکے بھی دیکھا تاکہ درست انداز میں موزانہ کیاجاسکے۔

یہاں پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی 14فبروری کی صبح داہردون کے جولی گرانڈ ائیر پورٹ پر پہنچے ۔اس وقت ان کے جسم پر ان کپڑو ں سے دوسرے کپڑے تھے جو کالا گڑھ جانے کے وقت دن کے دوران ہیلی کاپٹر کی سواری کے وقت پہنے ہوئے تھے۔

الٹ نیوز نے پی ایم مودی کی ہیلی کاپٹر کے ذریعہ سینٹ میری کالج آمد کی تصویریں کو جائزہ لیا‘ جہاں سے وہ کالاگڑھ ڈیم کو روانہ ہوئے تھے۔

اگر آپ وزیراعظم مودی کے اس ویڈیو میں لباس کو غور سے دیکھیں ‘ جو لباس چوتھی تصویر میں ہے وہ اس ویڈیو کے لباس سے مماثل نہیں ہے۔اس کامطلب یہ ہوا کہ چوتھی تصوئیر باقی تین تصویروں سے الگ ہے‘ جو بعد میں کھینچے گئی ‘ یعنی کشتی سوار ی کے بعد ۔

فبروری14کے روز پیش ائے واقعات کی کڑیاں جب جوڑنا شروع ہوا ‘ الٹ نیوز کے ہاتھ ایک ہند ی روزنامہ کا مضمون لگا‘ جس میں خبر تھی کہ ڈسکوری چیانل کی ایک ٹیم اس بورڈ پر موجود تھی جس میں وزیراعظم نریندر مودی کالا گھاٹ ڈیم سے دھاکالا روانہ ہوئے تھے۔

امراجالا نے اس بات کی بھی جانکاری دی کہ ڈسکوری چیانل کی ویڈیو ٹیم نے بوٹ میں وزیراعظم مودی کی ویڈیوگرافی بھی کی تھی۔ بعدازاں وزیراعظم مودی کھیننا ولی روانہ ہوگیا‘ مزے کی بات یہ ہے کہ مذکورہ کا موقف اب ہٹادیاگیا ے ‘ مگر اس کا ارچیوڈ ورژن اب بھی دستیاب ہے۔

الٹ نیوز کے ہاتھ امر اجالا کا ایک اور ارٹیکل لگا‘ اس میں بھی کالا گڑھ ڈیم سے دھاکالا تک بوٹ کے ذریعہ وزیراعظم مودی کے سفر کا ذکر ہے ۔

بعدازاں وزیراعظم مودی کھینناولی روانہ ہوئے جہاں پر انہوں نے شوٹنگ کی ۔یقینی طور پر کہاجاسکتا ہے راہول گاندھی نے جو تصویریں پوسٹ کی ہیں اس میں سے چوتھی تصویر بہت ممکن ہے کہ کشتی کی سوار کے بعد کی ہے کاربوریٹ پارک کے ڈھوکلا زون میں لی گئی ہونگے ‘ کیونکہ اس کے بعد ان کی آمد سے قبل لباس تبدیل کرنے کا انہیں ایک بھی موقع نہیں مل ہوگا۔

آخر میں وہیں تین تصویریں جو چوتھی تصویر کے ساتھ راہول گاندھی نے جس کا استعمال نریندرمودی کے فوٹو شوٹ کے متعلق کیا ہے وہ پلواماں حملے سے قبل کی ہیں‘ جبکہ چوتھی تصویر وزیراعظم کے متعلق کوئی بھی بات صداقت کے ساتھ نہیں کہی جاسکتی۔

کانگریس کایہ دعوی کہ وزیراعظم کی ڈسکوری کے ساتھ شوٹنگ6:30تک جاری رہے قابل قبو ل ہے ‘ مگر بی جے پی کی جانب سے یہ پختہ شواہدپیش کئے جارہے ہیں کہ وزیراعظم مودی تک پلواماں حملے کی جان کاری ملنے تک شوٹ ختم ہوگیاتھا۔

ٹھیک اسی وقت بی جے پی کا ردعمل ایسے کئے سوالات پیدا کررہا ہے ‘ جس کے جواب نہیں ملے ۔ یہ کہ پلواماں حملے پیش آنے کے وقت مودی کرکیا رہے تھے؟۔اگر جب وہ گیسٹ ہاوز چھوڑ چکے تھے اور روداپور کے راستے پر تھے تو انہوں نے کہاں سے فون کالس او رمیٹنگ کئے؟

کیوں بی جے پی پلواماں حملے اور اس کے بعد مودی کہاں پر تھے اس کے متعلق وزیر ردعمل پیش کرنے سے کترا رہی ہے؟

آخر مگر غیر متوقع نہیں وہ کیا وقت تک جب ڈسکوری کی شوٹنگ انجام پارہی تھی؟

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT