حملوں کے دوران ریاض میں چند گھنٹوں کے اندر دوسری وارننگ جاری

,

   

یہ انتباہات سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کی جانب سے دوبارہ ملنے والی دھمکیوں کے تناظر میں جاری کیے گئے۔

ریاض: سعودی عرب کے سول ڈیفنس نے ہفتے کی صبح، 19 ستمبر کو، ہنگامی حالات کے لیے ‘قومی ابتدائی انتباہی پلیٹ فارم’ کے ذریعے ریاض اور الخرج گورنریٹ میں ممکنہ خطرے کے پیشِ نظر دوسری وارننگ جاری کی۔ بعد ازاں ان علاقوں میں خطرہ ٹل گیا۔

اس تازہ ترین الرٹ سے قبل بھی اتھارٹی ریاض اور الخرج گورنریٹ کے لیے وارننگ جاری کر چکی تھی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جاری ایک بیان میں، سول ڈیفنس نے رہائشیوں پر زور دیا کہ وہ حفاظتی ہدایات پر عمل کریں اور مجمع لگانے یا ویڈیو بنانے سے گریز کریں۔

اپنی حفاظت کے لیے، رہائشیوں کو پرسکون رہنے، سول ڈیفنس کی سرکاری ہدایات پر عمل کرنے اور محفوظ مقام پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی۔ انہیں یہ بھی مشورہ دیا گیا کہ وہ مجمع لگانے اور ویڈیو بنانے سے گریز کریں۔

سول ڈیفنس نے کہا کہ ہنگامی صورتحال میں لوگ 998 پر کال کریں۔

فلائٹ ٹریکنگ کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوا کہ ریاض انٹرنیشنل ایئرپورٹ جانے والی پروازوں کا رخ موڑ دیا گیا یا انہیں روک دیا گیا؛ یہ اقدام بیلسٹک میزائلوں کی اس حالیہ لہر کے دوران کیا گیا جو مبینہ طور پر ‘انصار اللہ’ (حوثی گروپ) کی جانب سے سعودی دارالحکومت کے قریب اہداف کی طرف داغے گئے تھے۔

پروازوں میں خلل کی اطلاعات کے باوجود، مقامی سول ڈیفنس حکام نے ریاض کے رہائشیوں کے لیے خطرہ ٹل جانے کا اعلان کیا اور حملوں کی فوٹیج آن لائن شیئر کرنے کے خلاف خبردار کیا۔

اس سے قبل، اتھارٹی جدہ، طائف، ابھا، جازان صوبے، ینبع، العلا گورنریٹ اور فرسان گورنریٹ میں بھی وارننگ جاری کر چکی تھی۔ بعد ازاں ان علاقوں میں بھی خطرہ ٹل گیا تھا۔

اس قسم کے ابتدائی انتباہی الرٹس عام طور پر تب جاری کیے جاتے ہیں جب سعودی عرب کے علاقوں کو یمن میں موجود حوثی گروپ کی جانب سے ممکنہ حملوں یا خطرات کا سامنا ہو۔

سعودی حکام نے بدھ، 16 ستمبر کو بتایا تھا کہ ان کے فضائی دفاعی نظام نے مکہ کے جنوب میں ایک حوثی ڈرون کو اس وقت فضا میں ہی تباہ کر دیا جب وہ مقدس شہر کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے والا تھا۔

حوثیوں نے مکہ یا کسی بھی اسلامی مقدس مقام کو نشانہ بنانے کی تردید کی۔ فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ گروپ کی کارروائیاں سعودی اہداف کے خلاف تھیں۔ یہ واقعہ سعودی عرب اور ایران کے حامی حوثی گروپ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں پیش آیا ہے، جس نے سعودی سرزمین پر مزید حملے کیے ہیں۔

سعودی سول ڈیفنس نے ‘ایکس’ (سابقہ ​​ٹوئٹر) پر اطلاع دی کہ جمعرات کے روز طائف میں فضا میں تباہ کیے جانے والے ایک ڈرون کا ملبہ گرنے سے ایک شخص ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئے۔

ایک الگ واقعے میں، عراق کی جانب سے بھیجے گئے ڈرونز نے سعودی عرب کی ‘مشرق-مغرب’ آئل پائپ لائن پر واقع تین پمپنگ اسٹیشنوں کو نقصان پہنچایا، جس سے تیل کی برآمد کے اس اہم راستے کا کام عارضی طور پر معطل ہو گیا۔