عوام کے پیٹ پر لات مارکر مرکزی حکومت صرف سرمایہ کاروں کو فائدہ پہنچانے میں مصروف: نیشنل کانفرنس
سری نگر: آزاد ہندوستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ روز مرہ کی غذائی اجناس پر ٹیکس عائد کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس نے مرکزی حکومت پر زور دیا کہ وہ ہوش کے ناخن لیکر اس عوام کُش فیصلے کو فوری طور پر واپس لے اور عوامی کی راحت رسانی کیلئے مہنگائی پر قابو پانے کے لئے فوری اقدامات اٹھائے ۔ پارٹی کے ترجمانِ اعلیٰ تنویر صادق نے پارٹی ہیڈکوارٹر نوائے صبح کمپلیکس میں منگل کے روز ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہاکہ ایک جمہوری نظام میں ایک حکومت عوامی کے لئے ہوتی ہے لیکن یہاں کا نظام کچھ اور ہی کہانی بیان کرتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ حکومتی اقدامات سے ایسا تاثر مل رہا ہے کہ حکومت عوام کے لئے نہیں بلکہ چند کارپورٹ گھرانوں کیلئے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ برسوں کے دوران کووڈ نے پہلے سے اقتصادی بدحالی کے شکار عوام کو خاک پر لا کھڑا کیا ، حکومت کی ذمہ داری بنتی تھی کہ عوام کی راحت رسانی کے لئے آگئے آئیں لیکن جب آپ چاول، آٹھا، دودھ اور گیہوں جیسے اشیائے خورد و نوش پر جی ایس ٹی عائد کرتے ہیں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکمرانوں کو عوام کی کوئی فکر لاحق نہیں بلکہ تمام سرکاری مشینری چند سرمایہ کار گھرانوں کو فائدہ پہنچانے کیلئے کام کررہی ہے ۔ تنویر صادق نے کہا کہ بھارت کی 60 فیصد آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے ، جن کیلئے دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرنا مشکل ہوتاہے اور جنہیں مشکل سے ہی بھر پورہ بنیادی غذائیت نہیں ملتی ہے ، وہ کہاں جائیں گے ؟ بنیادی غذائی اجناس پر ٹیکس کا اطلاق تو سیدھے غریب عوام کی پیٹ پر لات مارنے کے مترادف ہے ۔ این سی ترجمان اعلیٰ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس مرکزی حکومت کے اس فیصلے کی شدید الفاظ میں مخالفت کرتی ہے اور ہمارے اراکین پارلیمان بھی پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران یہ معاملہ اُجاگر کریں گے اور حکومت پر زور دین گے کہ غذائی اجناس پر عائد کیا گیا ٹیکس واپس لیا جائے ۔ مسٹر تنویر صادق نے کہا کہ ایک ایسے دور میں جب حکومت کو عوام کی راحت رسانی کے لئے آگے آنا تھا اور بے روزگاروں کے نوکریوں فراہم کرنے کے علاوہ چھوٹے صنعت کاروں اور تاجروں کی بازآبادکاری کیلئے راحتی سکیموں کا اعلان کرنا تھا تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کو راحت پہنچے ، حکومت اُلٹا ان پر اضافی بوجھ بڑھا رہی ہے اور ایسی صورتحال میں لوگ سڑکوں پر آنے کیلئے مجبور ہوجائیں گے ۔