اسمبلی حلقہ کوڑنگل میں ریونت ریڈی کی کامیابی 33 ہزار ڈپلیکٹ ووٹوں کی مرہون منت
حیدرآباد ۔ 29 ۔ جون : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ رکشنا سینا کی سربراہ کے کویتا نے ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظر ثانی (SIR) مہم کے دوران الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے دونوں تلگو ریاستوں میں ایک فرد کے ایک ووٹ کے وصول کو یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ گریٹر حیدرآباد میں ایسے لاکھوں ووٹر ہیں جن کا ووٹ پڑوسی ریاست آندھرا پردیش میں بھی موجود ہے ۔ اس طرح دو ، دو ووٹوں کے ڈیٹا کی فوری جانچ کی جائے اور دوہرے (ڈپلیکٹ ) ووٹ کو فہرست رائے دہندگان سے خارج کردیا جائے ۔ کویتا نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے چیف منسٹر ریونت ریڈی کے حلقہ اسمبلی کوڑنگل کا حوالہ دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھائے ۔ کویتا نے کہا کہ جب انہوں نے خود اسمبلی حلقہ کوڑنگل میں جانچ کی تو پتہ چلاکہ وہاں 33 ہزار بوگس ووٹ پائے گئے ۔ واضح رہے کہ ریونت ریڈی گزشتہ اسمبلی انتخابات میں 32 ہزار ووٹوں کی اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی ۔ انہوں نے شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر کی کامیابی 33 ہزار ڈپلیکٹ ووٹوں کی بدولت ہوئی ہے ۔ کویتا نے کرناٹک کے رائے دہندوں کے نام کوڑنگل اسمبلی حلقہ میں موجود ہونے کا شبہ ظاہر کرتے ہوئے اس کی جانچ کرنے کا الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ۔ انہوں نے اسمبلی حلقہ بودھن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ایک سال میں 7000 ڈپلیکٹ شامل کردئیے گئے ہیں ۔ الیکشن کمیشن کی اس معاملے میں خاموشی معنی خیز ہے ۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ اس بین ریاستی انتخابی دھاندلی اور ڈپلیکٹ ووٹوں کے نیٹ ورک کے خلاف سنٹرل الیکشن کمیشن میں باقاعدہ تحریری شکایت درج کروا رہی ہے تاکہ تلنگانہ کے عوام کے حقیقی ووٹ بنک کا تحفظ کیا جاسکے ۔۔ 2/m/b