لوک سبھا میں رکن پارلیمنٹ کرن کمار ریڈی کی توجہ دہانی، بڑھتی ٹریفک اور آلودگی اہم مسائل
حیدرآباد 22 جولائی (سیاست نیوز) بھونگیر کے کانگریس رکن پارلیمنٹ سی ایچ کرن کمار ریڈی نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیاکہ حیدرآباد میٹرو ریل پراجکٹ مرحلہ II کو منظوری دی جائے تاکہ حیدرآباد اور اُس کے اطراف ٹریفک مسائل کی یکسوئی ہوسکے۔ کرن کمار ریڈی نے آج لوک سبھا میں خصوصی تذکرہ کے تحت میٹرو ریل پراجکٹ کا ذکر کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ حیدرآباد میگا سٹی کے طور پر تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور ملک کی معاشی ترقی میں حیدرآباد کا اہم حصہ ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ خانگی گاڑیوں میں غیرمعمولی اضافہ کے نتیجہ میں شہر میں ٹریفک جام کے مسائل اور آلودگی کی سطح میں اضافہ ہوا ہے۔ اِن مسائل سے نمٹنے کے لئے میٹرو ریل مرحلہ I کے تحت 69 کیلو میٹر پر مبنی 3 راہداریوں کا کام 22,000 کروڑ میں مکمل کیا گیا۔ شہر کی بڑھتی ضرورتوں کو دیکھتے ہوئے پراجکٹ میں توسیع ناگزیر ہے۔ کرن کمار ریڈی نے کہاکہ تلنگانہ حکومت نے میٹرو ریل مرحلہ II کے توسیعی منصوبہ پر مبنی تفصیلی پراجکٹ رپورٹ مرکزی حکومت کو پیش کردی ہے۔ دوسرے مرحلہ کے تحت 5 راہداریوں کا منصوبہ ہے جس کے تحت 76.4 کیلو میٹر کا احاطہ کیا جائے گا۔ مرکز اور ریاست کے درمیان جائنٹ وینچر کے طور پر جملہ 24269 کروڑ کا تخمینہ ہے۔ نومبر 2024ء میں وزارت ہاؤزنگ و شہری ترقی کو تفصیلی پراجکٹ رپورٹ مع دستاویزات داخل کردی گئی۔ منصوبہ کے تحت مرکزی حکومت 4230 کروڑ یعنی 18 فیصد مالیت میں حصہ دار رہے گی جبکہ تلنگانہ حکومت 7313 یعنی 30 فیصد کی حصہ داری ادا کرے گی۔ باقی رقم قرض اور خانگی اداروں سے سرمایہ کاری کے ذریعہ مکمل کی جائے گی۔ کرن کمار ریڈی نے کہاکہ حکومت ہند نے جائنٹ وینچر پراجکٹس کے طور پر ملک کے 20 سے زائد شہروں میں میٹرو ریل پراجکٹس کو منظوری دی ہے۔ وہ تمام شہر حیدرآباد سے کافی چھوٹے ہیں جن میں آگرہ، بھوپال، بھوبنیشور، اندور، کانپور،کوچی، لکھنؤ، میرٹھ، ناگپور، پٹنہ، پونے، سورت اور تریونڈرم شامل ہیں۔ رکن پارلیمنٹ نے بتایا کہ 2010ء میں حیدرآباد میٹرو نئی دہلی کے بعد ملک میں دوسرا بڑا نیٹ ورک تھا لیکن 2004ء تا 2014ء سابق حکومتوں کے تساہل کے نتیجہ میں یہ نویں مقام تک پہونچ چکا ہے۔ کرن کمار ریڈی نے مرکزی وزیر ہاؤزنگ و شہری ترقی سے درخواست کی کہ میٹرو ریل پراجکٹ مرحلہ II کو جلد سے جلد منظوری دیں تاکہ حیدرآباد کی تیز رفتار ترقی کو یقینی بنایا جاسکے۔1