خواتین پر مظالم ’’زیروٹولرنس ‘‘کی پالیسی

   

نئی دہلی، 2دسمبر (سیاست ڈاٹ کام) حکومت نے حیدرآباد عصمت دری معاملہ پر گہرا دکھ ظاہر کرتے ہوئے پیر کو کہا کہ وہ دہشت گردی اور بدعنوانی کے ساتھ ساتھ خواتین پر مظالم کے لئے ’زیروٹولرنس‘ (قطعی برداشت نہیں کرنے ) کی پالیسی پر کام کرے گی اور ا س کے لئے تعزیرات ہند (آئی پی سی) اور ضابطہ فوجداری (سی آر پی سی) میں ترمیم کرنے کیلئے تیار ہے۔ مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ جی کشن ریڈی نے یہاں لوک سبھا میں وقفہ صفر میں مختلف جماعتوں کے اراکین کی طرف سے یہ معاملہ اٹھائے جانے کے بعد وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد میں ایک جانوروں کی ڈاکٹر ساتھ جو واقعہ ہوا ہے اس پر وہ اس کے کنبہ کے رابطہ میں ہیں۔ وہ ڈائرکٹر جنرل آف پولیس اور حیدرآباد کے پولیس کمشنر سے بھی رابطہ میں ہیں۔ اس واقعہ کی پوری پارلیمنٹ نے مذمت کی ہے ۔ مسٹر ریڈی نے کہاکہ وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت اس کے لئے قانونی قدم اٹھانے کے لئے تیار ہے ۔ مرکزی حکومت خواتین کی سیکورٹی کے لئے پرعزم ہے اور جس طرح سے دہشت گردی اور بدعنوانی پر زیرو ٹولرنس کی پالیسی پر چل رہی ہے اسی طرح خواتین پر م ظالم پر ‘زیرو ٹولرنس’ کی بنیاد پر کام کرے گی۔ انہوں نے کہاکہ حکومت اس کے لئے آئی پی سی اور سی آر پی سی میں ترمیم کے لئے تیار ہے ۔ پولیس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ بیورو (بی پی آر ڈی) کو اس کی ذمہ داری دی گئی ہے ۔ ریاستوں کو خط لکھا گیا ہے اور اس بارے میں مسودہ تیار ہوگیا ہے ۔