خواتین کی حفاظت کے دعوے کھوکھلے

   

بجھ گئے ہیں سب دیئے امید کے
مشعلوں کی روشنی اپنی جگہ
ایک دن قبل بہار میں نوجوان لڑکی کے ساتھ بدسلوکی اور بد تمیزی کی گئی تھی جبکہ آج قومی دارالحکومت دہلی میں ایک نوجوان لڑکی کی تین درندوں نے اجتماعی عصمت ریزی کی۔ اس لڑکی کو نشانہ بنانے والوں نے خود کو پولیس اہلکار ظاہر کیا ’ بندوق دکھائی اور اس کے ساتھ جنسی استحصال کیا گیا ۔ یہ بد سلوکی اور غیر انسانی حرکت نے والے درندوں میںدو تو بھائی بھی شامل ہیں۔ کہا گیا ہے کہ ان میں ایک وکیل اور ایک بی ایس سی کا طالب علم ملوث ہے ۔ یہ حرکت ایک بار پھر یہ ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح سے ملک کے کئی شہروں میںخواتین اور نوجوان لڑکیاں محفوظ نہیں ہیں اور آئے دن انہیں نشانہ بنانے کے واقعات مسلسل پیش آ رہے ہیں۔ لڑکیوں اور خواتین کو جنسی درندگی کا شکار بنایا جا رہا ہے ۔ ان کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا جا رہا ہے ۔ انہیں بے تحاشہ ہراسانی کی جا رہی ہے اور ان کو سماج میں واجبی اور بہتر مقام دینے سے گریز کیا جا رہا ہے ۔ حکومت کی جانب سے بیٹی بچاؤ۔ بیٹی پڑھاؤ کا نعرہ دیا گیا تھا تاہم ایسا لگتا ہے کہ آج سارے ملک میں واقعتا بیٹیوں کو بچانے کی ضرورت ہے کیونکہ درندے کھلے عام گھوم رہے ہیں۔ کہیںچلتی بس میں لڑکی کی عصمت ریزی ہو رہی ہے تو کہیںپارک میں چاقو اور بندوق دکھاتے ہوئے ان کا جنسی استحصال کیا جا رہا ہے ۔ کہیں اخلاقیات کے نام پر غیرشائستہ سلوک کیا جا رہا ہے تو کہیں ان کے باہر گھومنے اور کسی کے ساتھ نکلنے پر حملے کئے جا رہے ہیں۔ یہ ساری صورتحال ایک مخصوص ذہنیت اور سوچ کی وجہ سے ہو رہی ہے جس میںخواتین کو مساویانہ مقام دینے سے گریز کیا جا رہا ہے اور خواتین کو محض استعمال کی شئے سمجھا جا رہا ہے ۔ حکومتوں کی جانب سے حالات کو بہتر بنانے اور خواتین اور لڑکیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے مسلسل دعوے کئے جانے کے باوجود اس طرح کے واقعات حکومت کی ناکامی کو اجاگر کرتے ہیں۔ یہ واضح ہوجاتا ہے کہ حکومت کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات بالکلیہ طور پر ناکافی ہیں اور مجرمین اور درندوں میں قانون کا خوف بالکل نہیں رہ گیا ہے ۔
خاص بات یہ ہے کہ دارالحکومت دہلی میں ایسے واقعات بہت زیادہ پیش آ رہے ہیں۔ گذشتہ چند دن قبل ہی چلتی ہوئی بس میںڈرائیور اور کلینر نے ایک لڑکی کی عصمت ریزی کی تھی ۔ اس سے قبل بھی خواتین پر حملوں اور ان کو جنسی ہراساں کرنے کے واقعات پیش آئے تھے ۔ اب ایک عوامی پارک میںلڑکی کی اجتماعی عصمت ریزی کا واقعہ پیش آیا ہے ۔ ان واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت کی جانب سے خواتین اور لڑکیوں کے تحفظ کیلئے جو اقدامات کئے جا رہے ہیں وہ بالکلیہ طور پر ناکافی ہیں۔ پولیس اور دوسری نفاذ قانون کی ایجنسیاںمتاثرین کو انصاف دلانے اور خاطیوںکو کیفر کردار تک پہونچانے میں ناکام ہو رہی ہیں جن کے نتیجہ میںمجرمین میں قانون کا کوئی خوف باقی نہیں رہ گیا ہے ۔ وہ بے خوف ہو کر جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں اور خاص طور پر خواتین اور لڑکیوںکو نشانہ بنانے کے واقعات میںاضافہ ہی درج کیا جا رہا ہے ۔ جب کبھی کوئی واقعہ عوامی توجہ حاصل کرلیتا ہے تو دکھاوے کے کچھ اقدامات کئے جاتے ہیں اور پھر عوام کی توجہ ہٹ جاتی ہے۔ ملزمین عدالتوں سے ضمانتیںحاصل کرلیتے ہیںاور اس میں بھی پولیس کی لاپرواہی شامل ہوتی ہے ۔ ضمانتوںکے بعد وہ دوبارہ بے خوف ہو کر گھومنے لگتے ہیں اور ان کو نہ سزا کا خوف رہتا ہے اور نہ ہی قانون کا ڈر باقی رہ جاتا ہے ۔ وہ قانون کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاکر دوبارہ جرائم کی دنیا میںمشغول ہوجاتے ہیں ۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ مرکزی حکومت اس معاملے کا سنجیدگی سے نوٹ لی ۔ خاص طور پر دہلی میں جو حالات ہیں ان پر توجہ کی ضرورت ہے کیونکہ دہلی پولیس مرکزی وزارت داخلہ کے تحت آتی ہے اور دہلی میں ہی اگر خواتین محفوظ نہ رہیں اور وقفہ وقفہ سے عصمت ریزی اور جرائم کے واقعات پیش آتے رہیں تو یہ مرکز کی ناکامی ہی کہی جائے گی۔ حکومت کو دکھاوے کے اقدامات کی بجائے اس طرح کے واقعات کا تدارک کرنے سخت اور موثر اقدامات کرنے چاہئیں اور مجرمین کو کیفر کردار تک پہونچانا چاہئے ۔