خواجہ معز الدین قتل کیس میں استعمال کی گئی کار ضبط، مزید چار گرفتاریاں

   

حیدرآباد ۔26۔ مئی (سیاست نیوز) شہر کے مشہور وکیل خواجہ معز الدین کے قتل کیس میں پولیس مزید پیشرفت کرتے ہوئے خاطیوں کی جانب سے جرم میں استعمال کی گئی کار کو شہر کے مضافاتی علاقہ سے ضبط کرلیا۔ اسی دوران پولیس نے اس کیس میں ملوث مزید چار افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ واضح رہے کہ قتل کیس کی تحقیقات کرنے والی پولیس ٹیموں نے ونئے سنگھ، ابھیجیت پوری ، جعفر، عثمان اور دیگر کو حراست میں لے کر تفتیش کی ہے جس میں پولیس کو اہم سراغ ہاتھ لگے ہیں۔ ابھیجیت جو اس کیس کا اہم ملزم ہے جو خواجہ معز الدین کو ٹکر دینے والی کار چلارہا تھا اور اس نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ فرار ہونے کی کوشش کے دوران شہر کے مضافاتی علاقہ ابراہیم پٹنم بائی پاس کار کو چھوڑ کر وہاں سے فرار ہوگیا تھا۔ پولیس کی ٹیموں نے کار کا کامیاب طور پر پتہ لگاتے ہوئے اسے ضبط کرلیا اور تحقیقات میں یہ معلوم ہوا ہے کہ ملزمین نے جرم میں استعمال کی گئی کار کو 6 ماہ قبل OLX کے ذریعہ خریدا تھا لیکن کار مالک کی تفصیلات و آر سی بک تبدیل نہیں کیا تھا۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ قتل کو انجام دینے کے دوران بعض ملزمین نے اسمارٹ فون کا نہیں بلکہ بٹن والے فون کا استعمال کیا تھا اور نئے سم کارڈ بھی حاصل کئے گئے تھے۔ کمشنر پولیس نے خاطیوں کا پتہ لگانے کیلئے اب تک 10 خصوصی ٹیمیں تشکیل دی ہیں جو مہاراشٹرا کے اورنگ آباد اور دیگر مقامات پر تعینات کئے گئے ہیں ۔ تازہ ترین کارروائی میں پولیس نے ایک کالج کے انتظامیہ کے بعض افراد کو بھی حراست میں لیا ہے ، جن پر اس کیس میں ملوث ہونے کا شبہ ہے ۔ حالانکہ پولیس نے مشتبہ افراد کو اس کیس کی تحقیقات کے دوران دو دن قبل ہی حراست میں لے لیا ہے اور چہارشنبہ کو ان کی گرفتاری کا اعلان متوقع ہے ۔ اسی دوران ڈائرکٹر جنرل پولیس سی وی آنند نے ماؤسٹوں کی خودسپردگی سے متعلق پریس کانفرنس کے دوران خواجہ معز الدین قتل کیس پر صحافیوں کی جانب سے کئے گئے سوالات کے جواب میں کہا کہ اس کیس کی تحقیقات شفافیت سے کی جارہی ہے اور کمشنر پولیس حیدرآباد اس کیس اور قتل کی سازش سے متعلق تمام تفصیلات کا پریس کانفرنس میں اعلان کریں گے۔ سی وی آنند نے یہ بھی کہا کہ ایڈوکیٹ قتل کیس کی تحقیقات آزادانہ انداز میں کی جارہی ہے اور اس میں کوئی سیاسی اثر و رسوخ استعمال نہیں کیا جارہا ہے۔