والدین کی انتظامیہ کے خلاف ہنگامہ آرائی ، خاتون ٹیچر کو برطرف کردیا گیا
حیدرآباد ۔ 16 جولائی (سیاست نیوز) سعیدآباد کے ایک خانگی اسکول میں آج اس وقت کشیدگی پھیل گئی جبکہ غیرمسلم طالب علم کو عربی کا سبق دیئے جانے پر والدین نے ہنگامہ آرائی کی۔ اس واقعہ کے بعد اسکول انتظامیہ نے خاتون ٹیچر کو برطرف کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سعیدآباد دھوبی گھاٹ روڈ پر واقع سکسیس اسکول ایک غیرمسلم طالب علم کو وہاں کی ایک ٹیچر نے کتاب میں تحریر کرتے ہوئے سورہ فاتحہ اور کلمہ کا ہوم ورک دیا تھا۔ والدین کی جانب سے اس سبق کو دیکھنے کے بعد فوری آج صبح اسکول پہنچ گئے اور وہاں کے انتظامیہ کے خلاف ہنگامہ آرائی کی حالانکہ اسکول انتظامیہ نے والدین کو یہ واضح طور پر بتایا کہ یہ سبق تمام طلبہ کو عام طور پر دیا گیا ہے لیکن اس معاملہ کو تول دیتے ہوئے وہاں پر ہنگامہ آرائی کی گئی۔ اسکول انتظامیہ نے فوری وہاں کی ٹیچر شیخ عائشہ پروین کو ملازمت سے برطرف کردیا اور آئندہ مستقبل میں سکسیس گروپ آف اسکولس میں ملازمت کیلئے نااہل قرار دیا۔ اسی دوران ہندو بنیاد پرست تنظیموں کی جانب سے اس معاملہ کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی گئی اور وقفہ وقفہ سے ہندو سیاسی قائدین وہاں پہنچ کر احتجاج کرنے کی کوشش کی لیکن پولیس سعیدآباد نے اسے ناکام بنادیا۔ حالات کو کشیدہ ہوتا دیکھ کر وہاں پر پولیس فورس تعینات کردی گئی اور ڈپٹی کمشنر پولیس چارمینار زون کرن کھرے پربھاکر بھی اسکول پہنچ گئے۔ انہوں نے کہا کہ اس کلاس میں جملہ 25 طلبہ زیرتعلیم ہیں جن میں 24 مسلمان اور صرف ایک ہندو طالب علم ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسکول کی ایک خاتون ٹیچر نے تمام طلبہ کیلئے یہ ہوم ڈائری میں کلمہ پڑھنے کی ہدایت کی تھی جو نہ صرف تعلیمی ضوابط بلکہ اس کے اپنے قواعد و ضوابط کی بھی صری خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب طالب علم نے اپنے والدین کو اس مسئلہ سے واقف کروایا تو ماں باپ نے اسکول انتظامیہ سے رابطہ قائم کیا۔ ڈی سی پی نے مزید کہا کہ مذہبی ہوم ورک دینے والی خاتون ٹیچر کو فوری طور پر برطرف کردیا گیا ہے اور اس سلسلہ میں کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا ہے۔