خودی کا رازداں ہوجا، خدا کا ترجماں ہوجا

   

(اُمت کے تمام مسائل کا واحد حل)

ڈاکٹر محمد سراج الرحمن
ہمارے عظیم جمہوری ملک ہندوستان کی جو عجیب تازہ ترین صورتحال ہے،یہ نہ صرف ہم مسلمانوں کو بلکہ سادہ لوح، سیکولر مزاج، امن پسند برادران وطن میں بھی تشویش کا سبب اور بے چینی کا ماحول پیدا کئے ہوئے ہے۔ نہ صرف حالیہ واقعات ہندوستان کی شبیہ اندرون ملک بلکہ بیرون ہند بھی سیکولر ساخت متاثر کررہی ہیں۔جیسے پہلے ہی ہمارا شہادت بابری مسجد کا زخم ابھی سوکھا نہیں، اب سنبھل کی جامع مسجد کا معاملہ، گیان واپی مسجد، متھرا کی مسجد اگرچیکہ یہ معاملہ ابھی زیردوران ہے، دن بدن صورتحال بڑی فکر انگیزی چل ہی رہی تھی۔ سہارن پور کی 600 سالہ قدیم جامع مسجد کو راتوں رات عدلیہ کے حکم کا بہانا بناکر شہید کردیا گیا۔ اس سے بڑھ کر ہندوستان کے قانون کی دھجیاں اُڑائی جارہی ہے کہ مسجد کی زمین مسلمانوں نے تحفۃً دی تھی جس کے تمام قانونی دستاویزات موجود ہیں کو غیر قانونی قرار دیا جارہا ہے، شہید کردیا گیا۔ یہ ضرور ایک دن خاموش اللہ کی لاٹھی ان پر برسے گی، دوسرا اُجین کی شاہی جامع مسجد کو شہید کرنے کی ناپاک سازش پر مقامی مسلمانوں نے حاضر دماغی کا ثبوت دیتے ہوئے مصالحت اختیار کی۔ مدھیہ پردیش کی حکومت کی ناپاک مکار سازشوں کو ناپاک عزائم کا دندان شکن جواب دیا۔ بھوج شالہ کی مسجد کو بھی سالہا سال سے نماز کے لئے اجازت نہیں ہے۔ ہر روز اس عظیم ہندوستان میں جہاں لاکھوں مساجد ہیں، مراکز دینی، خانقاہوں کو، حتیٰ کہ عالمی عجائب خانہ تاج محل، قطب مینار، لال قلعہ پر بھی بیانات سنتے ہیں۔ ستم بالائے ستم حکومت کی دوغلی پالیسی حالیہ عالمی سمٹ میں جیسا کہ کچھ ممبران پارلیمنٹ نے بھی واضح کیا۔ حالیہ عالمی قائدین کی سمٹ BRICS 2026 میں آئے مندوبین کے لئے نماز گاہ قائم کی گئی وہیں اندرون ملک اسی ملک کے مسلمانوں کو فرقہ واریت کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ عبادت گاہوں کو شہید کرنا دوغلا پن نہیں تو اور کیا ہے۔ چند مٹھی بھر دشمن اسلام عناصر ہماری شناخت مٹانا چاہتے ہیں۔
وقت کا تقاضہ ہے، اولین ترجیح ہے، ہر مسلمان اپنی اولاد سے کم از کم دنیا سے جانے سے پہلے یہ ضرور جان کاری حاصل کرلے کہ یہ کہیں ہماری نسل لادینیت، دین سے دور، دین بیزار تو نہیں ہورہی ہے۔ ہر صدر خاندان کو چاہئے کہ اولاد کے اندر دینداری ٹٹولیں، برادری، معاشرہ، محلہ شہر میں ہونے والے معمولی معاملات پر قتل خون، غارت گری کا تدارک میں اپنا رول لازماً ادا کریں۔ قابل تحسین ہے وہ برادران وطن جو اسلام کے روشن آفتاب کی آج بھی تعریف اور حقیقت بیان کرتے ہیں۔ حال ہی میں معروف پارلیمنٹرین، مصنف، سیاستداں ششی تھرور نے یہ بات دہرائی ، اسلام ہند میں تلوار سے نہیں کردار سے پھیلا۔ کیرالا کی مسجد چرمان (جو زمانہ دور رسالت میں تاجر عرب سے متاثر ہوکر) وقت کا بادشاہ بنایا تھا، اسے اسلام کی حقانیت اپنی جگہ ہے، دشمنوں کے خلاف ہے سیسا پلائی دیوار کی طرح ڈٹی ہے۔ ہم جانتے ہیں روز روشن کی طرح عیاں ہے آچاریہ ونوبھا بھاوے، گاندھی جی، سوامی ویویکانند، پروفیسر رما کرشنا، پنڈت نہرو، مائیکل ہارٹ، برنارڈ شاہ فہرست طویل ہے جیسے لوگوں نے اپنی تصانیف میں پیغمبر اسلام کی تعلیمات پر دو ٹوک الفاظ میں تعریف کی۔ مزید برآں یہ کہ بی جے پی کے سابق وزیر قانون، معروف قانون داں جن سے وقت کی حکومت بھی کانپتی تھی رام جیٹھ ملانی نے اپنی زندگی کے کئی مباحثے اور انٹرویوز میں اپنے آپ کو قرآن کا طالب علم قرار دیا تھا۔ اسلام کے مساوات کو انسانی حقوق کا علمبردار بتایا، کئی احادیث کا اپنے بیان میں تذکرہ کیا جیسے عالم کے قلم کی سیاہی، شہید کے خون سے زیادہ مقدس و قیمتی ہوتی ہے، طالب علم، علم حاصل کرنے کے لئے جاتا ہے تو سمندر کی مچھلیاں تک اس کے لئے دعا کرتی ہیں، پَر بچھاتی ہے۔
دعوت الی اللہ کی محنت تمام اعمال میں افضل ترین عمل ہے۔ جہاد فی سبیل اللہ ایک ہزار دشمنوں سے مقابلہ سے افضل ہے۔ راہ خدا میں سو اونٹ قربان کرنے سے زیادہ عظیم ہے۔ آج ہمارے دین اسلام کے خلاف ہونے والے تمام مسائل کا واحد حل ہی ہے جسے ہم نے پس پشت ڈال دیا۔ رب ذوالجلال کی طرف سے جس عظیم کام کے عوض دنیا و آخرت کی کامیابی کی خوشخبری دی گئی، ضمانت دی گئی، ہم اس کی اہمیت و افادیت کو نہیں جان رہے ہیں۔ اہمیت نہیں دے رہے ہیں۔ جبکہ موجودہ دور حاضر اس کام کے لئے انتہائی سازگار ہے، ہم گہرائی گیرائی سے جائزہ لیں، برادران وطن، انسانیت سکون کی متلاشی ہے، حق کو قبول کرنے کے لئے بے چین ہے۔ پھر بھی ہم غفلت برت رہے ہیں جس کی وجہ سے ہم دنیاوی آفات و بلیات اور مرعوبیت کا شکار بن رہے ہیں۔ نصرت، مدد الٰہی سے محروم ہیں۔
اب بھی وقت ہے ہم ساری خیر خواہی محبت کے ساتھ ہر حال میں یہ ذمہ داری ادا کریں، ہند میں ابھی شرک زندہ شکل میں موجود ہے کیوں کہ یہاں دعوت کا کام مطلوب شکل میں نہیں کیا جاسکا۔ ایسی حالت میں اُمت مسلمہ اپنا کھویا وقار اب بھی بحال کرسکتی ہے۔ جنتی گروہ (عصابہ) جس کو پیشن گوئی کی گئی ہے میں شامل ہوسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ ہمیں مشن رسولﷺ پر محنت کرنے کی توفیق دے۔ دنیا و آخرت کی بشارتیں ہمارے نصیب میں لکھ دے۔ آمین بجاہ طہٰ و یٰسین۔
تو راز کن فکان ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہوجا
خودی کا رازداں ہوجا خدا کا ترجماں ہوجا