کلکتہ26 جون (سیاست ڈاٹ کام) وزارت دفاع کے ذریعہ گورکھا ریکوائرڈیپوٹ بند کیے جانے کی خبر کی وجہ سے ایک بار پھر دارجلنگ میں حالات خراب ہونے کا اندیشہ پیدا ہوگیا ہے۔ گورکھا ریکوائرڈیپوٹ کا دفتر داراجلنگ کے جالا پہار علاقے میں واقع ہے ۔ گورکھا جن مکتی مورچہ کے جنرل سیکریٹری روشن گیری نے مرکزی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کو خط لکھتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستانی افواج سے وابستگی ہمیشہ سے گورکھاؤں کیلئے فخر کی بات رہی ہے ۔مگر مجھے معتبر ذرائع سے خبر ملی ہے کہ مرکزی وزارت دفاع اور انڈین فوج کے ہیڈکوارٹر نے گورکھا ریکوائرڈیپوٹ’جو دارجلنگ کے جالاپہار میں واقع ہے کو بند کیا جارہا ہے ۔اس خبر سے پوری گورکھا کمیونٹی میں ناراضگی ہے ۔
اور ٹھکا ہوا محسوس کررہے ہیں۔گیری نے یہ خط 25جون کو لکھا ہے ۔ خط میں لکھا گیا ہے کہ گورکھا ریکوائرڈیپوٹ جالا پہار میں ہندوستان میں فوج کی بھرتی کیلئے قدیم ترین مراکز میں سے ایک ہے ۔یہاں سے فوج میں جوانوں کی بھرتیاں کی جاتی تھیں اور یہ ملک کے قیمتی ورثہ میں سے ایک ہے ۔ اس دفتر سے سابق فوجی جوانوں کو بھی خدمات فراہم کرنے کے علاوہ فوج میں بھرتی بھی کی جاتی ہے ۔اس دفتر سے بند ہونے سے نہ صرف فوج میں بحالی کی تمنا رکھنے والوں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑے گا بلکہ سابق فوجیوں کو بھی مشکلات ہوں گی۔ گیری نے وزارت دفاع کو مشورہ دیا ہے کہ جی آرڈی اور جی آر او کو دارجلنگ سے منتقل کیے جانے کے خلاف احتجاج کیا جائے گا۔خیال رہے کہ گورکھا جن مکتی مورچہ بی جے پی کی اتحاد ی جماعت ہے اور مورچہ کی مدد سے ہی بی جے پی نے دارجلنگ کی سیٹ پر کامیابی حاصل کی ہے ۔