کیس کی تحقیقات کے نام این آئی اے کی فرضی ویڈیو گرافی
حیدرآباد 5 جولائی (سیاست نیوز) نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے دربھنگہ ریلوے اسٹیشن دھماکہ کیس کے 2 ملزمین کو جن کا تعلق پاکستانی دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ سے بتایا جاتا ہے، شہر منتقل کرتے ہوئے فرضی منظرکشی کی جارہی ہے۔ این آئی اے کی خصوصی ٹیم نے محمد عمران ملک اور ناصر ملک کو پٹنہ کی این آئی اے عدالت میں پیش کرنے کے بعد اُنھیں آج شہر منتقل کیا اور اِس کیس کے اہم گواہوں کے بیانات قلمبند کئے جارہے ہیں۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ تحقیقاتی ایجنسی نے علاقہ چکڑپلی اور حبیب نگر میں موجود بعض دوکانوں کا معائنہ کرتے ہوئے وہاں کے ذمہ داران کا بیان بھی قلمبند کیا ہے اور سمجھا جاتا ہے کہ اُن دوکانوں سے عمران نے دھماکہ کے لئے استعمال کئے جانے والے کمیکلس سلفیورک ایسڈ اور نائٹرک ایسڈ خریدا تھا۔ حبیب نگر کی ایک دوکان پر این آئی اے عہدیدار پہونچ کر دوکاندار سے اُس کا بیان قلمبند کیا اور کہا جاتا ہے کہ دھماکہ میں استعمال کی گئی شکر یہاں سے خریدی تھی۔ اس کے علاوہ اُس ٹیکسی ڈرائیور کو بھی این آئی اے نے اپنے آفس طلب کیا ہے جس میں ریڈی میڈ گارمنٹ کا ایک پارسل سکندرآباد ریلوے اسٹیشن منتقل کیا گیا تھا جس میں بم رکھا گیا تھا۔ باوثوق ذرائع نے مزید کہاکہ اِس کیس کو مضبوط بنانے کے لئے این آئی اے مکان مالک جس میں دونوں بھائی کرایہ پر ایک کمرہ حاصل کیا تھا، کا بھی بیان قلمبند کیا گیا ہے اور اس کیس میں کئی گواہوں کے ناموں کا اندراج کیا جارہا ہے۔ تحقیقاتی ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران اور ناصر نے پاکستانی دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ کے لئے کام کرتے ہوئے 15 جون کو سکندرآباد ریلوے اسٹیشن سے ریڈی میڈ گارمنٹ کا ایک پارسل دربھنگہ روانہ کیا تھا اور 17 جون کو اس پارسل میں دھماکہ ہوا تھا۔