درگاہ حضرت سید شاہ مخدوم بیابانی ؒ کی موقوفہ اراضی کو تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن کے حوالے نہ کرنے پر زور

   

روزنامہ سیاست کے انکشاف کے بعد
آلور شریف کی موقوفہ اراضیات پر تیسرے فریق کو اختیار یا استحقاق فراہم نہ کیا جائے : اکبرالدین اویسی کا چیف منسٹر ریونت ریڈی کو مکتوب

حیدرآباد۔19۔ستمبر۔(سیاست نیوز) درگاہ حضرت سید شاہ مخدوم بیابانی ؒ کے تحت موجود 1264ایکڑ موقوفہ اراضی کسی سرکاری ادارہ تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن کے حوالہ کرنے کے اقدامات پر فوری روک لگائیں اور کسی کے بھی ذریعہ آلور شریف کی ان موقوفہ اراضیات پر تیسرے فریق کو اختیار یا استحقاق فراہم کرنے کے اقدامات نہ کئے جائیں۔ قائد ایوان مقننہ جناب اکبر الدین اویسی نے چیف منسٹر مسٹر اے ریونت ریڈی کو حوالہ کئے گئے تفصیلی مکتوب میں درگاہ حضرت سید مخدوم بیانی ؒ کی 1264 ایکڑ اراضی کے مسئلہ پر توجہ مبذول کرواتے ہوئے اس اراضی کے تحفظ کے اقدامات کو یقینی بنانے کی خواہش کی ۔روزنامہ سیاست نے ’’آلور شریف‘‘ کی اس 1264 ایکڑ اراضی کو حکومت کی جانب سے حاصل کئے جانے کے سلسلہ میں اقدامات اور ضلع کلکٹر رنگاریڈی کے شعبہ حصول اراضیات کی جانب سے جاری کئے جانے والے اعلامیہ کے متعلق 15جولائی کو انکشاف کیا تھا اور اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ درگاہ حضرت مخدوم بیابانی ؒ کے تحت موجود اراضیات جو کہ آلورI‘ آلور IIکے علاوہ آلور IIIمیں موجود ہیں انہیں قانون حق حصول اراضیات کے ذریعہ حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔روزنامہ سیاست کے اس انکشاف کے بعد تلنگانہ وقف بورڈ نے حرکت میں آتے ہوئے اس معاملہ کو محکمہ اقلیتی بہبود کے ذمہ داروں کے علم میں لانے کے اقدامات کئے اور محکمہ اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیداروں سے اس سلسلہ میں مشاورت کے بعد انہیں تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی لیکن اس کے باوجودمحکمہ اقلیتی بہبود کی نے اس معاملہ میں مکمل خاموشی اختیار کی ہوئی ہے اور اب دیگر موقوفہ اراضیات کے ساتھ کی گئی تفصیلی نمائندگی میں جناب اکبر الدین اویسی نے درگاہ حضرت سید مخدوم بیابانیؒ کی1264 ایکڑ اراضی کے تحفظ کے اقدامات کو یقینی بنانے کی خواہش کی ہے۔انہوں نے ’روزنامہ سیاست‘ کی جانب سے اٹھائے گئے نکتہ کی اپنے مکتوب میں نشاندہی کرتے ہوئے معمولی قیمت پر اس اراضی کو حاصل کرنے کی کوشش کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ قانون حق حصول اراضیات اور وقف قوانین کے نکات کا جائزہ لیتے ہوئے اگر حکومت اراضی عوامی مقاصد ومفاد کے لئے حاصل کرنا چاہتی ہے تو ایسی صورت میں انہیں قوانین کے مطابق بازار کی قیمت سے اضافی قیمت ادا کرتے ہوئے ادارہ جاتی معاوضہ کی ادئیگی پر توجہ دینی چاہئے ۔ H/M/3 (سلسلہ صفحہ 2 پر)