دہشت گردوں سے مذاکرات لیکن ماوسٹوں سے کیوں نہیں؟ آپریشن کگار پر راؤنڈ ٹیبل اجلاس سے مہیش کمار گوڑ کا خطاب
حیدرآباد۔ یکم؍ جون (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ ملک میں جمہوریت اور دستور کو خطرہ لاحق ہوچکا ہے۔ سیاسی پارٹیوں اور عوامی تنظیموں کو جمہوریت کے تحفظ کے لئے مساعی کرنی چاہئے۔ مہیش کمار گوڑ آج جہد کاروں کی امن کمیٹی کی جانب سے منعقدہ راؤنڈ ٹیبل اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔ جہد کاروں کی کمیٹی نے مرکزی حکومت سے چھتیس گڑھ کے جنگلاتی علاقوں میں آپریشن کگار کو فوری روکنے اور ماوسٹوں سے امن مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے۔ جہد کاروں نے سیاسی پارٹیوں کی تائید حاصل کرنے کے لئے راؤنڈ ٹیبل اجلاس منعقد کیا۔ صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ مرکز میں برسر اقتدار بی جے پی حکومت فاشسٹ نظریات پر عمل پیرا ہیں اور جمہوری اصولوں کو نظرانداز کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی آپریشن کگار کے نام پر ماوسٹوں کی ہلاکت کی مذمت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماوسٹوں سے مذاکرات کے ذریعہ تنازعہ کا حل تلاش کیا جانا چاہئے۔ مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ ماوسٹوں نے مذاکرات کی پیشکش کی ہے لیکن مرکز کا رویہ سرد مہری کا ہے۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ امریکی صدر ٹرمپ کی ہدایت پر مرکز نے دہشت گردوں سرپرستی کرنے والے پاکستان سے مذاکرات پر اتفاق کیا لیکن ماوسٹوں سے مذاکرات کے لئے تیار نہیں جو ہندوستان کے شہری ہیں۔ پاکستان کے ساتھ جنگ بندی کی گئی لیکن ماوسٹوں کے ساتھ جنگ بندی کے لئے تیار کیوں نہیں ہیں؟ انہوں نے کہا کہ عدم تشدد پر کانگریس کا ایقان ہے اور کسی بھی طرح کے تشدد کی پارٹی مذمت کرتی ہے۔ مرکز میں بی جے پی برسر اقتدار آنے کے بعد جمہوری اصولوں کو فراموش کردیا گیا اور 2014 میں عوام سے کئے گئے انتخابی وعدوں کی ابھی تک تکمیل نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں سیکولر اور جمہوری طاقتوں کو متحدہ طور پر دستور اور جمہوریت کے تحفظ کی جدوجہد کرنی چاہئے۔ اے آئی سی سی سکریٹری وسنت کمار، پروفیسر ہرگوپال اور بائیں بازو جماعتوں کے قائدین شریک تھے۔ 1