نئی دہلی : ای ڈی نے منگل کو دہلی میں نیشنل ہیرالڈ کے دفتر سمیت 10 مقامات پر چھاپے مارے۔ یہ چھاپے سونیا گاندھی اور راہل گاندھی سے پوچھ گچھ کے بعد مارے گئے۔ یہ تلاشیاں کانگریس کی صدر سونیا گاندھی سے اس معاملے کے سلسلے میں مرکزی ایجنسی کی طرف سے پوچھ گچھ کے ایک ہفتہ بعد ہوئی ہیں۔ گاندھی گزشتہ ماہ تین بار ای ڈی کے سامنے پیش ہوئیں ۔ای ڈی کا مقدمہ ٹرائل کورٹ کے اس حکم پر مبنی ہے جس نے انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کو نیشنل ہیرالڈ اخبار کے معاملات کی جانچ کرنے اور سونیا اور راہول کے ٹیکس کا جائزہ لینے کی اجازت دی تھی۔یہ حکم بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ سبرامنیم سوامی کی طرف سے 2013 میں دائر درخواست کا نتیجہ تھا۔سوامی کی شکایت میں گاندھیوں کی طرف سے اخبار کے حصول میں دھوکہ دہی اور فنڈز کے غلط استعمال کا الزام لگایا گیا تھا۔ سوامی نے الزام لگایا تھا کہ گاندھی خاندان نے ینگ انڈین نامی ایک تنظیم کے ذریعے اخبار کے سابق پبلشرز دی ایسوسی ایٹڈ جرنلز لمیٹڈ کو خرید کر نیشنل ہیرالڈ کی ملکیت کی جائیدادیں حاصل کیں جس میں ان کی 86 فیصد حصہ داری ہے۔
ہیرالڈ ہاؤس پر چھاپہ انتقامی کارروائی:کانگریس
نئی دہلی: کانگریس نے منگل کو یہاں ہیرالڈ ہاؤس، بہادر شاہ ظفر مارگ پر چھاپے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اہم اپوزیشن پارٹی کے خلاف مودی حکومت کی انتقامی کارروائی کا نتیجہ ہے ۔ کانگریس کے میڈیا شعبہ کے سربراہ جے رام رمیش نے کہاکہ “ہندوستان کی مرکزی اپوزیشن کانگریس کے خلاف جاری حملے کے ایک حصے کے طور پر بہادر شاہ ظفر مارگ پر واقع ہیرالڈ ہاؤس پر چھاپے مارے گئے ۔ اس کارروائی کو اپوزیشن کی آواز کو دبانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “ہم مودی حکومت کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کے خلاف انتقامی سیاست کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ آپ ہمیں خاموش نہیں کر سکتے ۔ ای ڈی شاہی کو روکیں۔ واضح رہے کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے ہیرالڈ معاملے میں لین دین کے سلسلے میں کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی سے پوچھ گچھ کے بعد گزشتہ ہفتے پارٹی صدر سونیا گاندھی سے بھی کئی گھنٹوں تک پوچھ گچھ کی تھی۔