دماغی نکسل ‘ اندھ بھکت

   

گلشن پرست ہو ں مجھے گُل ہی نہیں عزیز
کانٹوں سے بھی نباہ کئے جارہا ہوں میں
وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک بار پھر ملک میں دماغی نکسل کی بحث چھیڑ دی ہے ۔ وزیر اعظم نے نکسلائیٹس سے متاثرہ رہے علاقے بستر میں سکیوریٹی اہلکاروں کے ساتھ ملاقات کی ۔ ان سے خطاب کیا اور یہ کہا کہ ملک کے بیشتر علاقوں سے مسلح نکسلائیٹس کا تو خاتمہ ہوگیا ہے تاہم دماغی نکسل اب بھی ہمارے درمیان موجود ہیں۔ درا صل وزیر اعظم کا اشارہ ان لوگوں کی جانب تھا جو پڑھے لکھے ہیں۔ تعلیم یافتہ ہیں۔ اس ملک میں دستور اور قانون کی بالا دستی کی بات کرتے ہیں۔ جو حکومت سے اس کے وعدوں اور اس کی کارکردگی پر سوال کرتے ہیں۔ جو عوام کے حقوق کا تحفظ کرنا چاہتے ہیں۔ جو صرف اس لئے کسی بھی بات کی تائید نہیں کرتے کہ یہ حکومت کی پالیسی ہے ۔ ان لوگوں کو نشانہ بنانے کیلئے دماغی نکسل کا لفظ استعمال کیا جا رہا ہے جو حکومت کی رائے سے اختلاف رکھتے ہیں اور حکومت کو گھیرنے میں عار محسوس نہیںکرتے ۔ جو حکومت کی جانب سے طاقت کے استعمال سے مرعوب نہیں ہوتے اور انہیں خوفزدہ کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوتیں۔ یقینی طور پر اس ملک میں دو طبقات ہو گئے ہیں۔ ایک وہ ہے جو حکومت کی پالیسیوں سے اختلاف کرتا ہے اور حکومت سے سوال کرتا ہے ۔ اس سے جواب طلب کرتا ہے ۔ دوسرا وہ طبقہ ہے جو حکومت کے کسی بھی فیصلے اور کسی بھی اقدام کی آنکھیں بند کرکے تائید کرتا ہے چاہے اس سے ملک کا کتنا ہی نقصان کیوں نہ ہوجائے ۔ چاہے ملک کے عوام کے حقوق تلف ہی کیوں نہ کئے جائیں ۔ چاہے ملک کے کروڑوں عوام کو ووٹ کے حق سے محروم ہی کیوں نہ کردیا جائے ۔ چاہے قانون کی دھجیاں ہی کیوں نہ اڑائی جائیں ۔ چاہے بلند بانگ دعووں کے بعد کارکردگی صفر ہی کیوں نہ رہ جائے ۔ چاہے ملک کی سرحدات پر صورتحال غیر اطمینان بخش ہی کیوں نہ رہے ۔ چاہے عالمی سطح پر ملک کی ساکھ ہی کیوں نہ متاثر ہوجائے ۔ یہ لوگ ہر حال میں حکومت کے فیصلوں اور اس کی پالیسیوں کی تائید کرتے ہیں اور سوال کرنے والوںکو نشانہ بنانے سے بھی یہ طبقہ گریز نہیں کرتا ۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ملک کے تعلیم یافتہ طبقہ کو پہلے تو اربن نکسل قرار دیا گیا تھا اور اب دماغی نکسل قراردیا جا رہا ہے ۔ یہ وہی طبقہ ہے جو ابنائے وطن کے حقوق کی بات کر رہاہے ۔ یہ وہی طبقہ ہے جو باشعور ہے ۔ جو کسی کے بھی دعوے اور پالیسیوںپر آنکھ بند کرکے بھروسہ نہیں کرتا بلکہ اس کی جانچ کی جاتی ہے ۔ اس کے نتائج کا جائزہ لیتا ہے ۔ حکومت کی پالیسیوں پر سوال کرتا ہے ۔ عوام کے حقوق کی بات کرتا ہے ۔ عوام کو راحت پہونچانے کی بات کرتا ہے اور یہی سب کچھ در اصل جمہوریت کی بنیاد ہے ۔ جمہوریت کی بنیادوں میں اختلاف رائے ہی بہت زیادہ اہمیت ہے اور ہندوستان وہ ملک رہا ہے جس میں اختلاف رائے کا بہت زیادہ احترام کیا جاتا رہا ہے ۔ مرکز میںچاہے جس کسی بھی پارٹی یا اتحاد کی حکومت رہی ہو اپوزیشن کی رائے کو محترم سمجھا گیا ہے ۔ ان کی رائے پر غور کیا گیا ہے ۔ اپوزیشن کی کارکردگی کی ستائش بھی کی گئی ہے ۔ ان کی تجاویز کو قبول بھی کیا گیا ہے ۔ تاہم جس وقت سے اختلاف رائے کو شخصی دشمنی کی شکل دینے کی کوشش کی گئی ہے اس وقت سے اختلاف کرنے والوں کو دماغی نکسل سمجھا جا رہا ہے اور ان کو گودی میڈیا کے تلوے چاٹنے والے اینکرس کے ذریعہ رسواء کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی گئی ہے ۔ جیلوں میں بند کرنے سے گریز نہیں کیا گیا ہے ۔ مقدمات درج کرکے ہراسانی میں کوئی کسر باقی نہیںر کھی گئی ہے اور کئی طرح سے نشانہ بنایا گیا ہے ۔
سب سے پہلے تو ملک کے عوام کو دماغی نکسل کا اشارہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کس کو ٹارگٹ کرتے ہوئے یہ اصطلاح استعمال کی جا رہی ہے ۔ اگر حقوق کی بات کرنا دماغی نکسل ہونا ثابت کرتا ہے تو ہندوستان کے عوام کی اکثریت دماغی نکسل ہی کہلائی جائے گی کیونکہ لوگ حقوق کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ اپنے مطالبات منوانے کیلئے پرامن جدوجہد کا راستہ اختیار کر رہے ہیں اور حکومت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سوال کر رہے ہیں۔ اپنے ہی ملک کے عوام کو اس طرح سے نشانہ بنانا حکومتوں کو ذیبا نہیں دیتا ۔