تنقید کرنے والوں کو خود کا محاسبہ کرنے کا مشورہ : محمد محمود علی کا ردعمل
حیدرآباد ۔ 15 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : ریاستی وزیر داخلہ محمد محمود علی نے کہا کہ دودھ کا کاروبار کرنا کوئی معیوب بات نہیں ہے بلکہ یہ ایک تجارت ہے ۔ جس سے رسول اللہ ﷺ کی سنت ادا ہوتی ہے۔ یہ کاروبار ہمارا خاندانی پیشہ ہے جس پر مجھے فخر ہے ۔ ایک پریس نوٹ جاری کرتے ہوئے وزیرداخلہ نے کہا کہ سابق وزیر محمد علی شبیر نے حکومت کی افطار پارٹی اور رمضان گفٹس کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے ذاتیات پر اتر آئے ہیں جو نامناسب ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دودھ کا کاروبار ایک خالص اور بہترین تجارت ہے ۔ جو پچھلے کئی سالوں سے کی جارہی ہے ۔ ان کے والد مالدار ، خوشحال اور ایماندار تاجر کی حیثیت سے کافی مشہور تھے ۔ محمد محمود علی نے کہا کہ لوگوں کو دوسروں پر تنقید کرنے سے قبل پہلے خود کا محاسبہ کرنا چاہئے ۔ وزیر نے کہا کہ وہ ٹی آر ایس پارٹی میں 27 اپریل 2001 میں شامل ہوئے تھے ان کا شمار پارٹی کے بانی قائدین میں ہوتا ہے اور سال 2002 میں انہوں نے اعظم پورہ حلقہ سے کارپوریٹر کے لیے مقابلہ بھی کیا تھا ۔ محمد محمود علی نے کہا کہ وہ اپنی تنقید کرنے والوں کانام لینا بھی پسند نہیں کرتے ۔ مسلم تحفظات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ مسلم تحفظات کو سال 2007 میں اس وقت کی کانگرس حکومت نے عملی جامہ پہنایا تھا جس کے پیچھے ٹی آر ایس پارٹی کا دباؤ تھا ۔ اگر ٹی آر ایس پارٹی دباؤ نہیں ڈالتی تو مسلمانوں کو تحفظات نہیں ملتے ۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ٹی آر ایس پارٹی کا سال 2004 کا انتخابی منشور ایک مرتبہ دیکھ لیں جس میں مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کا ذکر صاف طور پر نظر آئے گا ۔ ٹی آر ایس پارٹی اپنے آغاز سے ہی مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے کے حامی رہی ہے ۔ ٹی آر ایس قائدین نے تشکیل تلنگانہ کے لیے اپنے عہدوں کا استعفیٰ دیا تھا تاکہ تلنگانہ عوام کو ان کا جائز حق مل سکے ۔ ساتھ ہی ساتھ مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات حاصل ہوسکے ۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر حکومت نے اپنے دور میں پہلی مرتبہ 8 مسلمانوں کو مختلف کارپوریشنس کے صدور نشین منتخب کئے جب کہ کانگریس حکومت نے کبھی بھی ایسا نہیں کیا ۔ وزیر نے کہا کہ ملک بھر میں کے سی آر جیسا مسلم دوست قائد نہیں ہے ۔ عنقریب تمام اقلیتی کارپوریشنس کے صدور نشین کے علاوہ پبلک سرویس کمیشن اور عثمانیہ یونیورسٹی میں چیرمین کے عہدوں پر بھی مسلمانوں کو مقرر کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو گمراہ کرنے کے بجائے رفاعی کاموں کی فکر کریں ۔ محمد محمود علی نے تنقیدیں کرنے والوں پر زور دیا کہ وہ اپنی حیثیت کے مطابق دوسروں سے مباحث کا چیلنج کریں ۔۔ ن