وزیر اعظم نے این ایس اے اور دیگر عہدیداروں کے ساتھ جموں و کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لیا
نئی دہلی ۔ وادی کشمیر کی کمر توڑنے کے بعد اب دہشت گرد تنظیمیں جموں ڈویژن کو دہشت زدہ کرنے کی سازشیں کر رہی ہیں۔ پچھلے تین دنوں میں ریاسی، کٹھوعہ اور ڈوڈہ میں ہوئے حملے اس بات کو ثابت کرتے ہیں۔ سیکورٹی فورسز اور انٹیلی جنس ایجنسیاں دہشت گردوں کی ناپاک سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہیں۔ اپنے غیر ملکی دورے سے پہلے وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو این ایس اے اجیت ڈوول اور دیگر عہدیداروں کے ساتھ جموں و کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ حکام نے وزیر اعظم مودی کو جموں وکشمیر میں سیکورٹی صورتحال کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کی ہیں۔ انسداد دہشت گردی کی کوششوں کے بارے میں بتایا۔ وزیر اعظم مودی نے حکام سے کہا ہے کہ وہ انسداد دہشت گردی کی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کریں۔ یہ اس بات کا براہ راست اشارہ ہے کہ دہشت گردوں کو کسی بھی صورت میں بخشا نہیں جائے گا۔ دریں اثناء وزیر داخلہ امیت شاہ اور لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے بات کی۔ وزیر اعظم مودی نے وزیر داخلہ امیت شاہ سے بھی بات کی ہے۔ سیکیورٹی فورسز کی تعیناتی اور انسداد دہشت گردی آپریشنز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی وزیر اعظم نے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے بھی بات کی ہے۔ ان سے جموں و کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ وزیراعظم کو مقامی انتظامیہ کی جانب سے کی جانے والی کوششوں سے آگاہ کردیاگیا ہے۔ یاد رہے کہ دہشت گردوں نے اتوارکی شام ضلع ریاسی کے ترایاتھ گاؤں کے نزدیک یاتریوں سے بھری بس پر فائرنگ کی تھی۔ شیوکھودی مندر سے کٹرہ جانے والی یہ بس گہری کھائی میں جاگری تھی۔ اس دہشت گردانہ حملے میں نو افراد ہلاک ہوئے اور 41 افراد زخمی ہوئے۔ بس میں اتر پردیش، راجستھان اور دہلی کے یاتری سوار تھے۔ بعد ازاں کٹھوعہ ضلع کے سیدا سکھل گاؤں میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کی اطلاع پر منگل کی رات تلاشی مہم شروع کی گئی۔ اس دوران دہشت گردوں نے فائرنگ کردی۔ اس میں دو سینئر عہدیداروں کو نشانہ بنانے کی مذموم کوشش کی گئی۔ تاہم دونوں اہلکار بحفاظت فرار ہوئے۔ گولیاں ان کی گاڑیوں کو لگیں۔ اس کے بعد دہشت گردوں نے منگل کی رات دیرگئے ڈوڈا ضلع کے بھدرواہ ۔ پٹھانکوٹ روڈ پر چوکی پر حملہ کیا تھا۔ اس میں راشٹریہ رائفلزکے پانچ سپاہی اور ایک ایس پی او زخمی ہوئے۔ ان حملوں کے بارے میں حکام نے کہا ہے کہ پاکستان جموں و کشمیر میں پرامن ماحول کو خراب کرنے کی سازش کر رہا ہے۔ایک جانب جہاں ہندوستان میں لوک سبھا انتخابات پُرامن انداز میں منعقد ہوئے تھے وہیں دوسری جانب چند دنوں کے دوران وادی کشمیر میں دہشت گردوں حملوں میں انتظامیہ کو پریشان کردیا ۔