دہشت گردی کے خاتمہ تک حکومت خاموش نہیں بیٹھے گی

   

نئی دہلی: ملک میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کو ختم کرنے کیلئے انسداد دہشت گردی ایکٹ (یو اے پی اے ) میں اب تک چار بار ترمیم کی جا چکی ہے اور دہشت گردی میں مذہب کی بنیاد پر کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی ہے ۔یہ معلومات مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ امور نتیا نند رائے نے چہارشنبہ کو راجیہ سبھا میں وقفہ سوالات کے دوران ایک ضمنی سوال کے جواب میں دی۔ رائے نے کہا کہ اس قانون کے تحت کسی بھی بے قصور کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہونی چاہیے ، یہی وجہ ہے کہ اس قانون میں اب تک چار بار ترمیم کی جا چکی ہے اور ضرورت پڑنے پر اس میں مزید ترمیم کی جائے گی۔ یہ قانون دہشت گردی کی روک تھام کیلئے نہیں بلکہ خاتمے کیلئے ہے اور مودی حکومت دہشت گردی سے نمٹنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں کر رہی رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ مودی حکومت ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے بارے میں واضح ہے اور اس کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ جب مرکزی حکومت اس قانون کا استعمال کرتی ہے تو ایسے معاملات میں 100% سزا ہوتی ہے ، لیکن ریاستوں کے معاملے میں کچھ فرق ہو سکتا ہے ۔ ریاست اپنی سطح سے اس کے تحت کارروائی کرتی ہے اور ایسے میں امن و امان کا معاملہ ریاستوں پر ہوتا ہے ۔