رائے درگ کی قیمتی اراضی کی ملکیت پر ہائیکورٹ میں حکومت کو مایوسی

   

فیصلہ واپس لینے سے ڈیویژن بنچ کا انکار، سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کا مشورہ
حیدرآباد۔/27ستمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے رائے درگ کی قیمتی اراضی کی ملکیت پر اپنے فیصلہ کو واپس لینے سے انکار کردیا اور تلنگانہ حکومت کو سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کا مشورہ دیا ہے۔ جسٹس جی سری دیوی اور جسٹس ایم جی پریہ درشنی پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے کہا کہ حکومت نے فیصلہ کو واپس لینے کیلئے جو اپیل دائر کی ہے اس میں کوئی جائز جواز نہیں ہے۔ اپریل 2022 کو جسٹس اے راج شیکھر ریڈی اور جسٹس ایم جی پریہ درشنی پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے رائے درگ میں سروے نمبر 234 کے تحت 7 ہزار کروڑ مالیتی قیمتی اراضی کی ملکیت کا 2 خانگی اداروں کے حق میں فیصلہ سنایا تھا۔ بی سرینواس کرشنا اور ایم لنگمیا کے حق میں فیصلہ سنایا گیا۔ تلنگانہ حکومت نے درخواست دائر کرتے ہوئے فیصلہ کو واپس لینے کی اپیل کی۔ سپریم کورٹ کے سینئر کونسل ویدیا ناتھن نے حکومت کے موقف کو پیش کیا۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ دونوں خانگی فریقین نے سابقہ بنچ میں تحریف کردہ دستاویزات داخل کئے تھے اور عدالت نے حکومت کے موقف کی سماعت کے بغیر ہی فیصلہ سنایا تھا۔ خانگی اداروں کی جانب سے بھی سینئر ایڈوکیٹس نے اپنے دلائل پیش کئے اور حکومت کے دعویٰ کی نفی کی۔ عدالت نے کہا کہ اگر فیصلہ سے حکومت متاثر ہوئی ہے تو وہ سپریم کورٹ میں خصوصی مرافعہ داخل کرسکتی ہے نہ کہ ہائی کورٹ میں فیصلہ واپس لینے کی اپیل کرے۔ بتایا جاتا ہے کہ رنگاریڈی ایڈیشنل کلکٹر ایس تروپتی اور راجندر نگر آر ڈی او کے چندرکلا کو ضلع کلکٹر نے سپریم کورٹ میں ایس ایل پی داخل کرنے کیلئے مجاز قرار دیا ہے۔ر