حیدرآباد: راجیہ سبھا میں قائد اپوزیشن غلام نبی آزاد نے بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر راحت اندوری کے اچانک انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ۔ ا پنے تعزیتی پیام میں غلام نبی آزاد نے کہا کہ راحت اندوری ان لاکھوں افراد کی آواز تھے جو اپنے مسائل کا کھل کر اظہار نہیں کرسکتے تھے ۔ راحت اندوری مظلوموں اور ناانصافی کا شکارافراد کے ترجمان تھے ۔ وہ اپنی بیباک اور آزادانہ شاعری کے لئے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے ۔ مجھے کئی مواقع پر راحت اندوری کو دوبدو سماعت کا موقع ملا۔ ان کے اچانک انتقال سے جو خلاء پیدا ہوا، اس کا پُر ہونا مشکل ہے۔ انہوں نے مرحوم کی مغفرت کے لئے دعا کی اور پسماندگان سے تعزیت کا اظہار کیا ۔ سابق وزیر محمد علی شبیر نے بھی راحت اندوری کے اچانک انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف راحت اندوری نے قلمی جہاد کیا، وہ ملک کے موجودہ حالات سے کافی دلبرداشتہ تھے ۔ محمد علی شبیر نے راحت اندوری کا یہ شعر یاد کیا جو کافی مقبول ہوا۔
سبھی کا خون ہے شامل یہاں کی مٹی میں
کس کے باپ کا ہندوستان تھوڑی ہے