منڈل سطح پر تقسیم کے پروگرام، بارش سے نمٹنے حیدرآباد میں 150 ٹیموں کی تشکیل، ضلع کلکٹرس کے ساتھ چیف منسٹر کی ویڈیو کانفرنس
حیدرآباد 21 جولائی (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ضلع کلکٹرس کو ریاست میں موسلا دھار بارش کے پیش نظر چوکسی کی ہدایت دی۔ چیف منسٹر نے کہاکہ تمام سرکاری محکمہ جات کو ضلع نظم و نسق کے ساتھ بہتر تال میل کے ذریعہ کام کرنا چاہئے تاکہ کسی بھی علاقہ میں ناگہانی کی صورت میں فوری بچاؤ اور امدادی کام شروع کئے جاسکیں۔ چیف منسٹر نے ضلع کلکٹرس کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کا اہتمام کیا جس میں ریاستی وزراء نے مختلف اضلاع سے شرکت کی۔ چیف منسٹر نے بارش کے علاوہ راشن کارڈ کی تقسیم اور دیگر فلاحی اسکیمات پر عمل آوری کے سلسلہ میں کلکٹرس کو ہدایات جاری کیں۔ چیف منسٹر نے کہاکہ جون سے ابھی تک بارش 21 فیصد کم درج کی گئی تھی لیکن گزشتہ 3 دن سے ریاست بھر میں موسلا دھار بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ عوام کو کسی بھی دشواری سے بچانے کے لئے محکمہ جات کو چوکس رہنا ہوگا۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ حیدرآباد میں 150 خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں تاکہ بارش کی صورت میں متاثرہ علاقوں کے عوام کی مدد کی جاسکے۔ ٹریفک کے بہاؤ کو بہتر بنانے اور نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے سے روکنے پر توجہ مرکوز کی جارہی ہے۔ چیف منسٹر نے کہاکہ کمانڈ کنٹرول روم کے ذریعہ محکمہ موسمیات کی پیش قیاسی کے مطابق ہدایات جاری کی جائیں گی۔ اُنھوں نے کہاکہ ضلع کلکٹریٹس کے علاوہ پولیس کمشنریٹس کے عہدیداروں کو بھی زمینی سطح پر تیار رہنا چاہئے۔ اُنھوں نے کہاکہ حیدرآباد میں بارش کے ساتھ ہی ٹریفک جام ایک اہم مسئلہ ہے، اِس صورتحال کا مستقل حل تلاش کرنے کی کوشش کی جائے۔ چیف منسٹر نے پرائمری ہیلت سنٹرس اور سرکاری دواخانوں میں موسمی امراض سے نمٹنے کے لئے درکار ادویات اور سہولتوں کی ضرورت پر زور دیا۔ اُنھوں نے کہاکہ ضلع کلکٹرس کو اچانک معائنہ کرتے ہوئے طبی سہولتوں کا جائزہ لینا چاہئے۔ اُنھوں نے کہاکہ ضلع کلکٹریٹس سے روزانہ کی اساس پر چیف سکریٹری کو رپورٹ روانہ کی جائے۔ دھان کی پیداوار اور خریدی کا حوالہ دیتے ہوئے چیف منسٹر نے کہاکہ 2 کروڑ 85 لاکھ میٹرک ٹن دھان کی پیداوار کے ذریعہ تلنگانہ ملک کی نمبر ون ریاست بن چکی ہے۔ کسانوں کو یوریا کی سربراہی کی سلسلہ میں اندیشوں کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں۔ چیف منسٹر نے کہاکہ ریاست میں فی الوقت 96 لاکھ 95 ہزار 299 راشن کارڈ ہیں۔ سابق میں عوام کی راشن کارڈ کے سلسلہ میں دلچسپی کم تھی تاہم باریک چاول کی سربراہی کے بعد سے راشن کارڈ کے ڈیمانڈ میں اضافہ ہوچکا ہے۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ 25 جولائی سے 10 اگست تک تمام منڈل ہیڈکوارٹرس پر راشن کارڈس کی تقسیم کے پروگرامس منعقد کئے جائیں گے۔ ارکان اسمبلی، ضلع کے انچارج وزراء اِس پروگرام میں شرکت کریں گے۔ ضلع کلکٹرس کو پروگراموں کے انعقاد میں اہم رول ادا کرنا چاہئے۔ ہر منڈل میں ضلع کلکٹر اور ایڈیشنل کلکٹر راشن کارڈ کی تقسیم کے پروگرام میں حصہ لیں۔ چیف منسٹر نے کہاکہ کوئی بھی مستحق اور غریب خاندان راشن کارڈس سے محروم نہیں رہے گا۔ چیف منسٹر نے کہاکہ تاحال 7 لاکھ نئے راشن کارڈ جاری کردیئے گئے اور 10 اگست تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔1