حیدرآباد۔یکم۔ستمبر۔(سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز کونسل کے ذرائع کا کہناہے کہ رحمت بیگ استعفیٰ معاملہ سے صدرنشین کونسل کا کوئی تعلق نہیں ہے لیکن وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ کسی رکن کونسل کو مستعفی ہونے مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ بتایا جاتاہے کہ جمعہ کی شب ہی مجلسی قیادت نے اس سلسلہ میں ان سے رابطہ قائم کرکے ہفتہ کو رحمت بیگ کے استعفیٰ کیلئے وقت طلب کیا تھا اور وہ ہفتہ کو اپنے دفتر میں موجود تھے لیکن رحمت بیگ مکتوب استعفیٰ پیش کرنے نہیں پہنچے۔بتایا گیا کہ صدرنشین کونسل اس معاملہ میں اپنی کوئی ذاتی رائے قائم نہیں کئے ہوئے ہیں بلکہ اگر انہیں مکتوب استعفیٰ ملتا ہے تو وہ اس پر قوانین کے مطابق کاروائی کریں گے۔ تلنگانہ کونسل ذرائع کا کہناہے کہ مرزا رحمت بیگ کے آگے تین مار ملنا کی مثال موجو د ہیں جنہیں پارٹی سے مستعفی کئے جانے کے باوجود وہ رکن کونسل برقرارہیں اور عوام کے درمیان ہیں۔ تین مار ملنا 2024 کے دوران گریجویٹ ایم ایل سی زمرہ سے انتخابات میں حصہ لیتے ہوئے کانگریس کی مدد حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے اور اس کے بعد مسلسل مخالف پارٹی سرگرمیوں پر مارچ2025 میں کانگریس نے انہیں پارٹی سے ’معطل ‘ کردیا اس کے باوجود وہ رکن کونسل برقرار ہیں ۔ قوانین کے مطابق پارٹی اپنے منتخبہ رکن اسمبلی یا کونسل کو محض پارٹی سے نکال سکتی ہے لیکن اسمبلی کی یا کونسل کی رکنیت کو برخواست کروانے کا اختیار پارٹی یا حکومت کو نہیں ہوتا اسی لئے ’رحمت بیگ ‘ معاملہ میں حکومت یا پارٹی قائدین بے بس نظر آرہے ہیں ۔پارٹی سے اخراج سے چند گھنٹے قبل تک ہر گھنٹہ میں 10 مرتبہ ’صدر صاحب ‘ کی ہدایت کی بات کرنے والے رحمت بیگ نے ہدایت پر عمل نہ کرکے 5 دن گذار دیئے ہیںیا پھر وہ سامنے نہ آنے اور کسی کوکوئی جواب نہ دینے کی ہدایت پر ہی عمل کر رہے ہیں!3