میں نہیں جانتا کہ آئندہ انتخابات میں امیدوار رہوں یا نہیں: اکبر اویسی

   

مجھے جھکانے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن میں جھکوں گا نہیں ‘ مجلس مقننہ پارٹی لیڈر کے بیان کے بعد قیاس آرائیاں
حیدرآباد4 اکٹوبر(سیاست نیوز) قائد ایوان مقننہ مجلس جناب اکبر الدین اویسی آئندہ انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے! فاطمہ اویسی کے جی تا پی جی کیمپس میں سالار ملت ایجوکیشن ٹرسٹ طلبہ سے خطاب میں اکبر الدین اویسی کی جانب سے آئندہ انتخابات میں حصہ لینے سے متعلق بیان پر مختلف قیاس آرائیاں کی جانے لگی ہیں ۔ اکبر اویسی نے آئندہ انتخابات میں حصہ لینے یا نہ لینے دیئے گئے بیان میں کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ آئندہ انتخابات میں وہ امیدوار ہوں گے یا نہیں کیونکہ ان کی عمر ہونے لگی ہے۔قائد مقننہ کے اس جملہ نے میڈیا کی توجہ حاصل کرلی اور بیشتر اخبارات نے اکبر اویسی کے آئندہ انتخابا ت میں حصہ لینے کے متعلق قیاس آرائیاں شروع کردی ہیں۔ اکبر اویسی نے نوجوان طلبہ کو بہتر تعلیم حاصل کرنے کی تلقین کی اور کہا کہ انہیں بدنام کرنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں جھکانے کی کوشش کی جار ہی ہے حالانکہ انہوں نے کسی سیاسی جماعت ‘ قائد یا حکومت کی جانب اشارہ نہیں کیا لیکن یہ دعویٰ کیا کہ ’بہت سارے لوگ اکبر اویسی کی عزت سے کھیلنا چاہتے ہیں‘ ۔انہو ںنے کہا کہ انہیں رسواء کرنے کی کوشش کی جار ہی ہے۔ جو ایسا کرنا چاہتے ہیں ان کی انہیں کوئی پرواہ نہیں ہے ۔ اکبر اویسی نے کہا کہ وہ اللہ سے مانگیں گے اور اللہ کے آگے جھکیں گے کسی اور کے آگے وہ جھکنے والے نہیں ہیں۔قائدمجلس نے کہا کہ وہ گوشۂ گمنامی میں رہ جائیں گے لیکن کسی کے آگے جھکیں گے نہیں‘ جنگلوں کا رخ کرلیں گے لیکن کسی کے آگے جھکیں گے نہیں۔ SIR کے دوران متوفی ‘ مستقل منتقل اور غیر حاضر ووٹرس کے ناموں کو حذف کرنے اور مجلس کے ایک رکن اسمبلی اور رکن کونسل کے متعلق سوشل میڈیا پر مہم کے دوران اکبر اویسی کے بیان کے بعد شہریوں میں بے چینی پائی جانے لگی ہے ۔ کہا جارہا ہے کہ اکبر اویسی آئندہ انتخابات میں حصہ لینے سے گریز کرنے ماحول بنارہے ہیں حالانکہ اکبر اویسی سابق میں بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کے متعلق یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتے اور جاریہ معیاد کے دوران انہوں نے دوسری مرتبہ یہ بات کہی ہے ۔ 3