چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے فوری استعفیٰ کا مطالبہ

,

   

ایس آئی آر پر فوری روک اور مستقبل کے انتخابات بیلٹ پیپر کے ذریعہ کرانے پر زور
ٹھاکرے برادران کی زیر قیادت ممبئی میں گرجنا مورچہ ‘کئی پارٹیوں کے قائدین وکارکن شامل

ممبئی ۔4؍اکتوبر ( ایجنسیز )سیاسی اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے مہاراشٹرا نو نرمان سینا (ایم این ایس) کے سربراہ راج ٹھاکرے اور شیوسینا (یو بی ٹی) کے لیڈر ادھو ٹھاکرے نے اتوار 4 اکتوبرکو ممبئی میں ایک زوردار ’گرجنا مورچہ‘ نکالا۔ میٹرو سنیما سے برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) ہیڈکوارٹر تک نکالے گئے اس مشترکہ مارچ میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) پر ووٹر لسٹ میں بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کرتے ہوئے سخت تنقید کی گئی۔میڈیا کے مطابق نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شردچندر پوار) اور کانگریس پارٹی سمیت مہا وکاس اگھاڑی (ایم وی اے) کے اہم اتحادی سڑکوں پر متحد ہو گئے جس سے احتجاج کو کافی رفتار ملی۔ ترنگے کے حق میں پارٹی کے جھنڈے چھوڑ کر ہزاروں مظاہرین نے سخت جوابدہی، متنازعہ ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظر ثانی (ایس آئی آر) کے عمل کو ختم کرنے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے فوری استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے مارچ کیا۔حالیہ انتخابی نتائج کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھاتے ہوئے راج ٹھاکرے نے اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد ریاست بھر میں چھائی خوفناک خاموشی کی طرف اشارہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی جمہوری مینڈیٹ کی پہچان عوام کی ازخود ہونے والی جشن منانے کی کیفیت سے ہوتی ہے جبکہ پورے مہاراشٹرا میں انتخابات کے بعد کا موجودہ ماحول بڑے پیمانے پر مایوسی اور صدمے کی عکاسی کرتا ہے۔ راج ٹھاکرے نے سوال کیا کہ لوک سبھا انتخابات کے بعد صرف 6 ماہ کے مختصر عرصے میں مہاراشٹرا میں ووٹرس کی تعداد حیرت انگیز طور پر 40 سے بڑھ کر 60 لاکھ کیسے ہو گئی۔ اپوزیشن لیڈران کو 2017-18 میں اپنی دی گئی وارننگ یاد دلاتے ہوئے راج ٹھاکرے نے کہا کہ انہوں نے پہلے ای وی ایم کی کمزوریوں اور ووٹر لسٹ میں بے ضابطگیوں کے سلسلے میں سونیا گاندھی، ممتا بنرجی اور شرد پوار سمیت سینئر لیڈروں سے ملاقات کی تھی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ انتخابات کا متحدہ بائیکاٹ شفافیت لانے کا واحد یقینی طریقہ ہے۔ راج ٹھاکرے نے کہا کہ ایس آئی آر کے نظام کو فرضی نام ووٹر لسٹ میں شامل کرنے اور جائز شہریوں کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے ایس آئی آر پر فوری روک لگانے اور مستقبل کے انتخابات میں کاغذی بیلٹ پیپر کے ذریعے ووٹنگ بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔راج ٹھاکرے نے کہا کہ ملک میں جاری ایس آئی آر کا عمل غیر قانونی ہے۔ میرے صرف 2 مطالبہ ہیں۔ پہلا، مہاراشٹرا میں کرائی جا رہی ایس آئی آر کو ختم کیا جانا چاہیے۔ دوسرا مستقبل کے تمام انتخابات بیلٹ پیپر پر کرائے جانے چاہئیں۔ اس سے مکمل شفافیت یقینی ہوگی، دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ میں تمام سیاسی پارٹیوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ دہلی جائیں اور اپنی آواز اٹھائیں۔ کل جو بھی پارٹی اقتدار میں آئے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن اقتدار جائز اور منصفانہ طریقوں سے حاصل کیا جانا چاہیے۔اپنی تقریر میں ادھو ٹھاکرے نے مختلف اداروں پر کنٹرول حاصل کرنے اور سیاسی جماعتوں میں تقسیم پیدا کرنے کیلئے مرکز کی بی جے پی حکومت پر سخت تنقیدکی۔ انہوں نے الیکشن کمیشن میں اختیارات کی مرکزیت پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں عہدے سے ہٹانے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے چیف الیکشن کمشنر کو ان کی مدت کار کے دوران اور ریٹائرمنٹ کے بعد ملنے والی رعایتوں پر بھی سوال اٹھایا۔