بچوں کی اموات اسپتالوں کے حفاظتی انتظامات پر سوالیہ نشان، لاپرواہی پر سخت کارروئی ضروری
نرمل ۔ 25 ستمبر (سید جلیل ازہر) عادل آباد کے رمس اسپتال میں پیش آنے والے دلخراش واقعہ نے ہر حساس دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے، جہاں پانچ شیر خوار بچوں کی زندگی کے چراغ گل ہوگئے اور پانچ ماؤں کی گودیں اجڑ گئیں۔ وہ ننھی جانیں جنہوں نے ابھی دنیا کو آنکھ بھر کر دیکھا بھی نہیں تھا، جنہیں ماں کی آغوش کی گرمی اور ممتا کی لوری بھی نصیب نہ ہوسکی، موت نے انہیں اپنی آغوش میں لے لیا۔ ایسے سانحات کے بعد قائدین اور عہدیداران کی جانب سے دلاسہ، ہمدردی اور وقتی جذبات کا اظہار فطری امر ہے، لیکن جس ماں کی گود اجڑتی ہے، جس کے دل پر قیامت ٹوٹتی ہے، اس کے درد کی شدت کو وہی محسوس کرسکتا ہے جو اس صدمے سے گزر رہا ہو۔ سرکاری امداد یقیناً متاثرہ خاندانوں کے لیے ایک مدد ہوسکتی ہے، مگر دنیا کی کوئی مالی امداد ماں کی اجڑی ہوئی گود کو دوبارہ آباد نہیں کرسکتی اور نہ ہی اس کے دل سے اپنے لختِ جگر کی جدائی کا درد مٹا سکتی ہے۔ اس واقعہ نے خصوصاً ان خواتین کے دلوں میں خوف پیدا کردیا ہے جو اپنے نومولود بچوں کو اسپتال کے خصوصی نگہداشت وارڈ میں داخل کرکے اس امید کے ساتھ انتظار کرتی ہیں کہ ان کا بچہ صحت یاب ہوکر جلد ماں کی آغوش میں واپس آئے گا۔ بچے کی پیدائش کے بعد جب نومولود کو مخصوص نگہداشت کے باکس میں رکھا جاتا ہے تو ماں کا ہر لمحہ دعاؤں اور بے چینی میں گزرتا ہے۔ اس کیفیت اور اس انتظار کے کرب کا اندازہ الفاظ میں لگانا آسان نہیں۔ ایسے حساس مقامات پر محض حادثے کے بعد اقدامات کافی نہیں، بلکہ حادثات کی روک تھام کے لیے مسلسل احتیاط ضروری ہے۔ اسپتالوں میں برقی تنصیبات، اے سی، الیکٹرانک آلات اور دیگر حساس نظام کا باقاعدگی سے معائنہ اور حفاظتی جانچ ہونی چاہیے، تاکہ کسی ممکنہ خرابی کو سانحہ بننے سے پہلے ہی دور کیا جاسکے۔ رمس کے اس واقعہ کی جامع، غیر جانب دارانہ اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔ اگر تحقیقات میں کسی سطح پر غفلت یا لاپرواہی ثابت ہوتی ہے تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی بھی ہونی چاہیے، تاکہ مستقبل میں ایسے دلخراش واقعات کی تکرار کو روکا جاسکے۔ ان پانچ معصوم جانوں کی موت صرف پانچ خاندانوں کا نقصان نہیں بلکہ پورے معاشرے کیلئے ایک بڑا سوال ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سانحے سے سبق حاصل کرتے ہوئے اسپتالوں میں حفاظتی انتظامات کو مزید مؤثر بنایا جائے، تاکہ کسی اور ماں کی گود اجڑنے سے بچائی جاسکے۔