میونخ : سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے ہمارا ملک ایران کے جن ڈرون طیاروں کی طرف سے ایک طویل عرصے سے متنبہ کرتا چلا آ رہا ہے انہیں روس۔یوکرین جنگ میں استعمال کیا جا رہا ہے۔بن فرحان نے جرمنی میں منعقدہ 59 ویں میونخ سکیورٹی کانفرنس کے دائرہ کار میں مشرق وسطیٰ ممالک کے کردار سے متعلقہ نشست میں شرکت کی اور ایران کے ڈرون طیاروں، جوہری مذاکرات، امریکہ کے ساتھ تعلقات اور شام کی صورتحال کے بارے میں بیانات جاری کئے ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ سعودی عرب ایک طویل عرصے سے ایران کے ڈرون طیاروں کے بارے میں متنبہ کرتا چلا آ رہا تھا اور اب یہ ڈرون ہمیں یوکرین جنگ میں دِکھائی دے رہے ہیں۔اس معاملے میں ایران کے ساتھ رابطہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم نے ایران کو آگاہ کر دیا تھا کہ اسلحے کے پھیلاو سے علاقے کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا لہٰذا اسے روکا جانا چاہیے۔ایران کے نیوکلیئر مذاکرات پر بات کرتے ہوئے فرحان نے کہا ہے کہ “مذاکرات کے دوبارہ آغاز کی ضرورت ہے لیکن یہ مذاکرات خلیجی ممالک کی شرکت سے اور جامع نقطہ نگاہ کے ساتھ ہونے چاہیئے ‘‘ ۔انہوں نے نیوکلئیراسلحے سے پاک مشرق وسطیٰ کی حمایت کا ذکر کیا اور کہا ہے کہ “ایک ایسا ملک جو ہمسایہ ممالک کے ساتھ دشمنی رکھتا ہو اس کا جوہری اسلحے کا مالک بننا ہر ایک کو خود حفاظتی کی طرف مائل کر دے گا”۔امریکہ کے ساتھ تعلقات پر باتکرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ “بعض موضوعات پر ہمیں امریکہ کے ساتھ اختلافات کا سامنا ہے۔ یہ کوئی ڈھکی چھْپی بات نہیں ہے۔ ہم امریکہ کے ساتھ تعلقات میں اپنے قومی مفادات کو پیشِ نظر رکھے ہوئے ہیں”۔