ریاستی کابینہ میں مسلم نمائندگی نہ ہونا مسلمانوں سے نا انصافی

   

ابوالکلام تحفہ تعلیم اسکیم ، اقلیتوں کو سبسیڈی لون جاری نہ کرنے پر محمد محمود علی کی حکومت پر تنقید
حیدرآباد ۔ 13 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز) : بی آر ایس کے رکن قانون ساز کونسل محمد محمود علی نے کانگریس حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ریاستی کابینہ میں فوری مسلم وزیر کو شامل کریں ۔ کابینہ میں مسلم نمائندگی نہ ہونے کی وجہ سے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے مسائل حل نہیں ہورہے ہیں ۔ مسلم قائدین تنظیمیں اپنے مسائل کی نمائندگی کرنے سے محروم ہورہے ہیں ۔ تلنگانہ قانون ساز کونسل میں خصوصی توجہ دہانی (اسپیشل مینشن ) مباحث میں حصہ لیتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے انتخابات کے دوران اقلیتی بجٹ 4000 کروڑ روپئے تک بڑھا دینے کا وعدہ کیا جس میں 1000 کروڑ روپئے سے اقلیتی بے روزگار نوجوانوں کو خود روزگار فراہم کرنے کے لیے سبسیڈی لون دینے کا وعدہ کیا تھا بجٹ میں اقلیتوں کے لیے صرف 3003 کروڑ روپئے کی گنجائش فراہم کی گئی ۔ مالیاتی سال اختتام کو پہونچ رہا ہے ۔ منظورہ اقلیتی بجٹ مکمل خرچ نہیں کیا گیا ۔ کانگریس حکومت کے 15 ماہ مکمل ہوچکے ہیں ۔ سبسیڈی لون اسکیم میں ابھی تک ایک روپیہ بھی جاری نہیں کیا گیا ۔ محمد محمود علی نے کہا کہ مسلمانوں میں غربت ہے ۔ لہذا حکومت اقلیتوں کو ترجیحی بنیاد پر سبسیڈی لون جاری کرنے کے فوری اقدامات کریں ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے اس کے علاوہ ابوالکلام تحفہ تعلیم اسکیم کا میناریٹی ڈیکلریشن میں اعلان کرتے ہوئے انٹر میں زیر تعلیم طلبہ کو 10 ہزار گریجویشن میں زیر تعلیم طلبہ کو 15 ہزار پوسٹ گریجویشن طلبہ کو 25 ہزار ایم فل اور پی ایچ ڈی میں زیر تعلیم طلبہ کو 5 لاکھ روپئے تک مالی امداد دینے کا وعدہ کیا تھا مگر تاحال اس وعدے پر بھی عمل نہیں کیا گیا ۔ وہ کانگریس حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں میناریٹی ڈیکلریشن میں اقلیتوں سے جو بھی وعدے کئے گئے انہیں فوری پورا کیا جائے ۔ بی آر ایس کے رکن قانون ساز کونسل نے ٹمریز میں طلبہ کی تعداد اور تعلیمی معیار گھٹنے پر تشویش کا اظہار کیا ۔ اس پر خصوصی توجہ دینے کی حکومت سے اپیل کی ۔۔2