ریونت ریڈی کی کل دہلی روانگی، کابینہ میں توسیع اور کونسل کی نشستوں پر ہائی کمان سے بات چیت

   

6 وزارتی نشستوں کیلئے کئی دعویدار، گورنر کوٹہ کی 2 ایم ایل سی نشستوں پر غیر سیاسی افراد کی نظریں

حیدرآباد۔/17ڈسمبر، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی منگل 19 ڈسمبر کو نئی دہلی روانہ ہوں گے جہاں پارٹی ہائی کمان سے کابینہ میں توسیع اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔ ریاستی کابینہ میں مزید 6 وزراء کی شمولیت کے سلسلہ میں پارٹی کی سطح پر غیر معمولی سرگرمیاں دیکھی جارہی ہیں۔ ریونت ریڈی نے 7 ڈسمبر کو 11 وزراء کے ساتھ حلف لیا تھا اور اسمبلی کی عددی تعداد کے اعتبار سے 18 رکنی کابینہ تشکیل دی جاسکتی ہے۔ چیف منسٹر کے بشمول 12 وزراء ذمہ داری سنبھال چکے ہیں جبکہ مزید 6 کی شمولیت کے سلسلہ میں ہائی کمان کی اجازت کا انتظار ہے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر نے ہائی کمان کو امکانی وزراء اور کابینہ میں شامل کئے جانے والے طبقات کی تفصیلات سے پہلے ہی آگاہ کردیا ہے۔ ریاستی کابینہ میں ایک بھی مسلم وزیر پہلے مرحلہ میں شامل نہیں کیا گیا اور توقع ہے کہ 6 وزراء میں ایک مسلمان کو کابینہ میں نمائندگی دی جائے گی۔ سماج کے دیگر طبقات بھی نمائندگی کیلئے چیف منسٹر اور پارٹی اعلیٰ کمان کے پاس اپنی دعویداری پیش کررہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ پارٹی کے 15 سینئر ارکان اسمبلی نے کابینہ میں شمولیت کا مطالبہ کیا ہے تاہم اس بارے میں قطعی فیصلہ راہول گاندھی، سونیا گاندھی اور ملکارجن کھرگے کریں گے۔ کانگریس سے ایک بھی مسلم امیدوار اسمبلی چناؤ میں کامیاب نہیں ہوسکا لہذا کونسل میں نمائندگی دیتے ہوئے مسلمان کو شامل کیا جائے گا۔ مسلم نمائندگی کیلئے کانگریس میں کئی دعویدار ہیں۔ اس کے علاوہ گورنر کوٹہ کی 2 ایم ایل سی نشستوں کو پُر کرنے کیلئے بھی ریونت ریڈی نے بعض غیر سیاسی شخصیتوں کے ناموں کی فہرست تیار کی ہے ان میں سے 2 ناموں کی ہائی کمان سے منظوری لی جائے گی۔ کے سی آر حکومت کی جانب سے گورنر کوٹہ کی نشستوں کیلئے 2 سیاسی قائدین کے نام پیش کئے گئے تھے لیکن گورنر سوندرا راجن نے سیاسی پس منظر کے حامل افراد کو اپنے کوٹہ کے تحت کونسل کیلئے منتخب کرنے سے انکار کردیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ بعض سابق پروفیسرس جنہوں نے الیکشن میں کانگریس کی تائید کی وہ گورنر کوٹہ کی نشستوں پر نظر جمائے ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اگر ہائی کمان امکانی وزراء اورگورنر کوٹہ کی دو نشستوں کیلئے ناموں کو منظوری دے گا تو جاریہ ماہ کے اواخر تک کابینہ میں توسیع کردی جائے گی۔ پارٹی کے کئی سینئر قائدین جو اسمبلی کے رکن نہیں ہیں وہ بھی اپنے طبقات کی نمائندگی کا مطالبہ کرتے ہوئے کابینہ میں جگہ پانا چاہتے ہیں۔ ریونت ریڈی نے وزراء کے سلسلہ میں جو موقف اختیار کیا ہے وہ ہائی کمان کی مرضی کے عین مطابق ہے۔ وہ ایسی ٹیم تیار کرنا چاہتے ہیں جو 6 ضمانتوں پر موثر عمل آوری میں مددگار ثابت ہو اور لوک سبھا کے مجوزہ چناؤ میں کانگریس کی زائد نشستوں پر کامیابی کی جدوجہد کرسکے۔