تہران : 29 جون ( ایجنسیز ) ایرانی سفارت کار نے ایٹم بم کا نشانہ بننے والے واحد ملک میں بیٹھ کر مطالبہ کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی نیوکلیئر کشیدگی کے موقع پر سفارت سفارت کاری کی طرف پلٹا جائے۔جاپان میں ایران کے سفیر پیمان سیدات نے عرب نیوز کو انٹرویو میں بتایا کہ ان کے ملک کے دروازے مذاکرات کے لیے کھلے ہیں تاہم ساتھ ہی خبردار بھی کیا کہ ’زبردستی قائم کیا جانے والا امن، امن نہیں ہوتا۔‘چند روز پیشتر ہی ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکہ کی جانب سے حملے کیے گئے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ ’حقیقی سفارت کاری اختلافات کے باوجود باہمی احترام، برابری اور فریقین کے درمیان تسلی بخش نتائج پر مبنی ہوتی ہے۔‘مذاکرات کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ ’ایرانی حکام اس وقت مذاکرات کی بحالی کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ایرانی سفارت کار کا یہ تبصرہ اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے بعد سامنے آیا ہے، جو 24 جون کو جنگ بندی پر منتج ہوئی تھی۔انہوں نے امریکہ اور اسرائیل دونوں پر جارحیت کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جوہری تنصیبات پر حملے امریکہ کے ساتھ طے شدہ مذاکرات سے دو روز قبل کیے گئے، جس سے بداعتمادی کی خلیج گہری ہوئی۔ان کے مطابق ’بجائے اس کے کہ مذاکرات میں خلل ڈالنے کی مذمت کی جاتی امریکہ جارح کے ساتھ جا کھڑا ہو گیا اور انہوں نے اسی مذاکراتی عمل کو دھوکہ دیا جس کا وہ حصہ تھے۔‘انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’وہ دونوں جارحیت میں شریک تھے جس کو انہوں نے ہمارے پرامن جوہری مقامات پر حملے کر کے ثابت کیا۔ یوں امریکہ بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی سنگین خلاف ورزیوں میں اسرائیل کے ساتھ شامل رہا۔‘جنگ بندی کے معاہدہ کے بعد ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے پہلے بیان میں فتح کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ’ایران نے بدلے میں قطر میں امریکی بیس پر حملہ کر کے امریکہ کے منہ پر طمانچہ مارا ہے۔