سفید راشن کارڈ لازمی، ہر اسمبلی حلقہ میں3500 خاندانوں کو امداد
حیدرآباد۔/5 مارچ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں کانگریس حکومت کی 6 ضمانتوں میں زمین رکھنے والے غریب خاندانوں کو اندراماں انڈلو اسکیم کے تحت 5 لاکھ روپئے کی امداد کیلئے سفید راشن کارڈ کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی بھدرا چلم میں 11 مارچ کو اسکیم کے پہلے مرحلہ کا افتتاح کریں گے۔ حکومت نے لوک سبھا انتخابات سے قبل 6 ضمانتوں کے تحت کئے گئے اہم وعدوں کی تکمیل کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے ان وعدوں کی تکمیل کیلئے اقدامات کا آغاز کردیا گیا ہے ۔ زمین رکھنے والے غریب خاندانوں کو 5 لاکھ روپئے مکان کی تعمیر کیلئے منظور کئے جائیں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ ہر اسمبلی حلقہ میں 3500 خاندانوں کو امداد کا نشانہ مقرر کیا گیا ہے جس کے تحت ایک سال میں 416500 خاندانوں کی مدد کی جائے گی۔ اسکیم کے رہنمایانہ خطوط جلد جاری کئے جائیں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ دیگر اسکیمات کی طرح مذکورہ اسکیم کیلئے بھی سفید راشن کارڈ کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ حکومت تمام اسکیمات کیلئے سفید راشن کارڈ کو مربوط کرنا چاہتی ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق حکومت نے نئے راشن کارڈز کی اجرائی کے سلسلہ میں تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے اور لوک سبھا الیکشن کے بعد ہی اس بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق حکومت دوسرے مرحلہ میں ایسے غریب خاندانوں کو اندراماں ہاوزنگ اسکیم کے تحت مکانات فراہم کرسکتی ہے جن کے پاس مکان یا زمین نہیں ہے۔ سابق بی آر ایس حکومت کی جانب سے اعلان کردہ ڈبل بیڈ روم مکانات کی اسکیم کے تحت کئی لاکھ مکانات تعمیر کے بغیر ادھورے ہیں کانگریس حکومت ایسے مکانات کی تکمیل کرتے ہوئے غریبوں میں تقسیم کا منصوبہ رکھتی ہے۔ حکومت کو ایک اندازہ کے مطابق اندراماں انڈلو اسکیم کے تحت 30 تا 40 لاکھ استفادہ کنندگان کا اندازہ ہے۔ بجٹ کی فراہمی کے سلسلہ میں وزیر فینانس بھٹی وکرامارکا نے عہدیداروں سے مشاورت کی ہے۔1