نیویارک : امریکہ کے سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے منگل کو نیویارک میں مین ہیٹن گرانڈ جیوری کے روبرو خودسپردگی اختیار کرلی جس کے ساتھ ہی انہیں گرفتار کرلیا گیا ۔ ٹرمپ نے غیرمعمولی نوعیت کے فوجداری الزامات کا سامنا ہے جو ریپلکن لیڈر کی 2024 ء کی صدارتی مہم کو ناکام بناسکتی ہے ۔ آج کی غیرمعمولی تبدیلی کے بعد ٹرمپ ایسے پہلے سابق امریکی صدر بن گئے جن کو فوجداری الزامات کا سامنا ہے ۔ سربمہر مواخذہ 76 سالہ لیڈر پر 30 سے زیادہ مختلف نوعیت کے الزامات عائد کرتا ہے جس میں سب سے سنگین وہ الزام ہے کہ انہوں نے پورن ایکٹریس اسٹورمی ڈینیلس کو ان کے خلاف گواہیوں میں اپنا منہ بند رکھنے کیلئے رقم ادا کی ۔ مواخذہ ایسا باقاعدہ تحریری الزام ہے جس میں متعلقہ شخص کے بارے میں الزامات درج ہوتے ہیں ۔
ٹرمپ کے خلاف 34 الزامات
جیل کی کوٹھری سابق صدر کا مقدر؟
واشنگٹن : امریکیوں کی نظریں امریکی ریاست نیویارک کی طرف لگی ہوئی ہیں، جہاں چند ہی گھنٹوں میں سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے پہلے مقدمے کی سماعت کا آغاز ہو رہا ہے۔ نیویارک کی پولیس نے کسی بھی ہنگامی صورتحال کے پیش نظر مکمل ہائی الرٹ کر دیا ہے۔ٹرمپ پیر کو نیویارک پہنچے اور لوئر مین ہٹن میں اپنے مقدمے کی سماعت میں پہنچنے سے پہلے ٹرمپ ٹاور میں اپنی سابقہ رہائش گاہ کی طرف روانہ ہوگئے۔سابق امریکی صدر پر 34 مختلف سنگین نوعیت کے الزامات ہیں جن کا انہیں عدالت میں سامنا کرنا پڑے گا۔ ان میں سے اہم پورن اسٹار سٹورمی ڈینیئلز کی خاموشی خریدنے کے لیے 2016 کے انتخابات کے دوران ادائیگیوں سے متعلق الزام بھی شامل ہے، جن کا کہنا ہے کہ اس کا ٹرمپ کے ساتھ 2006 میں مختصر تعلق رہا تھا۔یہ بھی واضح ہو گیا کہ سابق صدر کو دیگر مجرمانہ الزامات کا سامنا کرنا پڑے گا، جن میں تجارتی ریکارڈ میں جعلسازی بھی شامل ہے۔توقع ہے کہ ٹرمپ آج کمرہ عدالت میں بغیر ہتھکڑی لگائے داخل ہوں گے، یا روایتی تصویر نہیں کھنچوائیں گے جو عدالت عام طور پر مدعا علیہان کے لیے لیتی ہے، تاکہ اسے ان کے خلاف استعمال نہ کیا جائے اور تصویر کے ذریعے تشدد پر اکسایا جائے۔