پسماندہ طبقات کے مسائل اٹھانے پر کے سی آر نے انہیں حقارت بھری نظر سے دیکھا اور دھتکاردیا
حیدرآباد ۔ 15 اکٹوبر (سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے سابق رکن پارلیمنٹ بی نرسیاگوڑ نے پارٹی کی ابتدائی رکنیت سے مستعفی ہوتے ہوئے 3 صفحات پر مشتمل اپنا مکتوب استعفیٰ صدر ٹی آر ایس و چیف منسٹر کے سی آر کو روانہ کردیا۔ وہ دہلی میں بی جے پی کے قومی قائدین سے ملاقات کررہے ہیں اور بہت جلد بی جے پی میں شامل ہوجائیں گے۔ اپنے مکتوب استعفیٰ میں بی نرسیاگوڑ نے بتایا کہ وہ جب بھی پسماندہ طبقات کے مسائل کو لیکر چیف منسٹر سے رجوع ہوئے تھے، انہیں حقارت بھری نظر سے دیکھتے ہوئے دھتکاردیا گیا تھا۔ اسمبلی حلقہ منوگوڑ میں بی سی ووٹرس کی اکثریت ہے۔ بی سی طبقہ کے کسی قائد کو امیدوار بنانے کا مطالبہ کرنے پر انہیں پارٹی سرگرمیوں سے دور رکھا گیا، جس سے وہ دلبرداشتہ ہوئے ہیں اور ٹی آر ایس کی ابتدائی رکنیت سے مستعفی ہورہے ہیں۔ بی نرسیا گوڑ نے بتایا کہ وہ 2009ء سے تلنگانہ تحریک میں سرگرم ہیں۔ ڈاکٹرس جوائنٹ ایکشن کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے تمام ڈاکٹرس کو تحریک کا حصہ بناچکے تھے۔ ٹی آر ایس نے انہیں 2014ء میں حلقہ لوک سبھا بھونگیر سے امیدوار بنایا تھا۔ انہوں نے کامیابی حاصل کی۔ 2019ء میں ٹی آر ایس قائدین نے ان کی شکست میں اہم رول ادا کیا پھر بھی وہ پارٹی کے ڈسپلن رکن کی طرح خدمات انجام دی، مگر منوگوڑ کے ضمنی انتخاب میں انہیں نظرانداز کردیا گیا۔ ایسا لگتا ہے پارٹی کو میری اور بی سی ووٹوں کی ضرورت نہیں ہے۔ اس لئے وہ ٹی آر ایس سے مستعفی ہورہے ہیں۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہیکہ بی نرسیاگوڑ دہلی میں بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا کے علاوہ دوسرے قائدین سے ملاقات کرچکے ہیں۔ن