سافٹ ڈرنگس انسانوں کا دشمن

   

سالانہ 22 لاکھ ٹائپ 2 ذیابیطس کیسیس کا اندراج
12 لاکھ افراد دل کے امراض میں مبتلا: واشنگٹن یونیورسٹی کی ریسرچ

حیدرآباد۔ 15 جنوری (سیاست نیوز) ٹھنڈے مشروبات بالخصوص سافٹ ڈرنکس یا کاربونیٹیڈ مشروبات اگر زیادہ مقدار میں استعمال کئے جائیں تو اس کے کئی نقصانات ہوسکتے ہیں اور یہاں تک کہ ٹائپ 2 ذیابیطس کا خطرہ بھی پیدا ہوجاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر سال تقریباً 22 لاکھ افراد ٹائپ 2 ذیابیطس کا شکار ہورہے ہیں اور ساتھ ہی 12 لاکھ قلب کے امراض کے کیسیس درج ہورہے ہیں، بالخصوص ترقی پذیر ممالک میں ان کی تعداد تشویشناک بتائی گئی ہے۔ واشنگٹن یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سال 2019ء میں دنیا بھر میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے 9.2 کیسیس شوگر والے مشروبات کی وجہ سے تھے۔ دریں اثناء ہارڈورڈ سے منسلک بریگھم اینڈ ویمنس ہاسپٹل میں 20 سال کے دوران ماہواری کے بعد ایک لاکھ خواتین کا مطالعہ کیا گیا جو لوگ ماہانہ 3 یا اس سے کم سافٹ ڈرنکس پیتے ہیں ، ان میں جگر کے کینسر کا خطرہ 85% تک بڑھ جاتا ہے۔ سافٹ ڈرنکس میں شکر کی زیادہ مقدار میں اضافی کیلوریز کا سبب بن سکتی ہے ، جس سے وزن بڑھ جانے کا خطرہ رہتا ہے۔ ٹھنڈے مشروبات میں موجود شکر دانتوں کو بھی متاثر کرسکتی ہے جس سے دانتوں میں کیڑے لگنے اور دانتوں کا درد وغیرہ کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ سافٹ ڈرنکس کا مستقل استعمال اِنسولین کے خلاف مدافعت پیدا کرسکتا ہے جو ٹائپ 2 ذیابیطس کی وجہ بن سکتا ہے۔ ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ اِن نقصانات سے بچنے کیلئے سافٹ ڈرنگس کا استعمال یا تو مکمل بند کردیں یا پھر انتہائی کم کردیں اور صحت بخش متبادل جیسے پانی یا قدرتی جوس کا استعمال کریں۔ 2