نیویارک:20 مئی ( یو این آئی )سان ڈیاگو کی مسجد میں ہلاک ہونے والے سکیورٹی گارڈ کو ایک عظیم ہیرو قرار دیا گیا جس نے اپنی جان قربان کر کے مسجد کے اندر موجود اسکول کے 140 بچوں کی حفاظت کو یقینی بنایا۔برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس نے دو مسلح حملہ آوروں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ کیا جس سے وہ خوفزدہ ہو کر اپنا منصوبہ ترک کر گئے۔حکام نے بتایا کہ 17 اور 18 سالہ حملہ آور، جنہوں نے پیر کے روز فائرنگ کے بعد خودکشی کر لی، آپس میں آن لائن ملے تھے اور انٹرنیٹ پر نفرت انگیز نظریات سے متاثر ہوئے تھے۔منگل کی رات سی این این نے رپورٹ کیا کہ اسے ایک ویڈیو ملی ہے جو حملہ آوروں نے مسجد پر حملے کے دوران ریکارڈ اور براہِ راست نشر کی تھی۔ اس میں ایک منظر ایسا بھی ہے جس میں ایک حملہ آور اپنے ساتھی کو گولی مار کر خود کو بھی ہلاک کرتا دکھائی دیتا ہے۔پولیس، ایف بی آئی اور دیگر حکام نے پریس کانفرنس میں ہلاک ہونے والے تین افراد کو خراجِ عقیدت پیش کیا، جو مسجد سے وابستہ تھے اور دوسروں کو بچانے کے لیے اپنی جانیں قربان کر گئے۔سکیورٹی گارڈ امین عبداللہ (51)، جو دوستوں میں ’برائن کلمیکس‘ کے نام سے جانے جاتے تھے، نے فوراً دونوں نوجوانوں کو خطرہ سمجھ کر ان پر فائرنگ کی۔ حملہ آوروں نے بھی جوابی فائرنگ کی اور عبداللہ پارکنگ میں ہلاک ہو گئے۔دو دیگر افراد، مسجد کے بزرگ منصور کاظیحہ (78) اور اوبر ڈرائیور نادر عوض (57)، نے حملہ آوروں کو عمارت سے باہر نکالا اور پارکنگ میں ہلاک ہوئے۔ عبداللہ نے اسی دوران ریڈیو کال کے ذریعے سکیورٹی لاک ڈاؤن فعال کیا جس سے مزید خونریزی رکی۔
مسجد کے امام طٰہٰ حسّان نے تینوں افراد کو ’ہمارے شہید اور ہمارے ہیرو‘ قرار دیا۔عبداللہ کی بیٹی حواء عبداللہ نے اپنے والد کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے خاندان سے بے حد محبت کرتے تھے اور اپنی ڈیوٹی کے دوران کھانے تک کے لیے وقفہ نہیں لیتے تھے۔ اس نے تمام مذاہب کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ نفرت کے خلاف متحد ہو کر محبت اور مہربانی کو فروغ دیں۔