سبیتا اندرا ریڈی سمیت بی آر ایس قائدین گھروں پر محروس

   

پولیس نے موسیٰ ندی ترقیاتی پراجکٹ کی عوامی سماعت میں شرکت سے روک دیا
حیدرآباد۔28 ۔ اکتوبر (سیاست نیوز) بی آر ایس ڈپٹی فلور لیڈر پی سبیتا اندرا ریڈی اور راجندر نگر اسمبلی حلقہ کے انچارج کارتک ریڈی کو پولیس نے آج صبح اس وقت گھر پر محروس کردیا جب وہ موسیٰ ندی ترقیاتی پراجکٹ کی عوامی سماعت میں شرکت کیلئے جارہے تھے ۔ سبیتا اندرا ریڈی کے علاوہ رکن اسمبلی سدھیر ریڈی ، رکن کونسل ڈاکٹر شراون اور دیگر قائدین کو بھی پولیس نے عوامی سماعت میں حصہ لینے سے روک دیا۔ مدھورا نگر پولیس اسٹیشن کے عہدیداروں نے سری نگر کالونی میں واقع سبیتا اندرا ریڈی کی قیامگاہ کے روبرو صبح 4 بجے سے ہی پہرہ لگادیا تھا ۔ سبیتا اندرا ریڈی اور کارتک ریڈی کی پولیس عہدیداروں سے بحث و تکرار ہوئی اور انہوں نے واضح کیا کہ عوامی نمائندوں کو مکانات پر محروس نہیں کیا جاسکتا۔ سبیتا اندرا ریڈی نے کہا کہ بی آر ایس کی جانب سے کسی بھی احتجاج کا اعلان نہیں کیا گیا اور نہ ہی عوامی سماعت سے اس کا کوئی تعلق ہے۔ انہوں نے جاننا چاہا کہ انہیں آخر کیوں محروس کیا گیا ہے جبکہ وہ کسی بھی مظاہرہ میں حصہ لینے والی نہیں ہیں۔ سبیتا اندرا ریڈی نے ریاست میں ایمرجنسی جیسی صورتحال کا الزام عائد کیا ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس برسر اقتدار آنے کے بعد سے غیر معلنہ ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے۔ بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ نے اس کارروائی کی مذمت کی اور کہا کہ اس اقدام سے ایمرجنسی دور کی یاد تازہ ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ موسیٰ ندی ترقیاتی پراجکٹ کے متاثرین مسلسل احتجاج کر رہے ہیں جنہیں بازآبادکاری کے بغیر ہی بیدخل کرنے کی تیاری ہے۔ حکومت موسیٰ ندی کو خوبصورت بنانے کے نام پر 1.5 لاکھ کروڑ خرچ کرنے کی تیاری کر رہی ہے جبکہ لاکھوں کسان خشک سالی اور فصلوں کو نقصانات کے سبب پریشان ہے۔ کے ٹی آر نے فی ایکر کم از کم 50 ہزار روپئے معاوضہ کی ادائیگی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ موسیٰ ندی پراجکٹ کے نام پر لاکھوں غریبوں کے مکانات منہدم کرنے کی تیاری ہے۔1/k