دہلی میں ’جن سنوائی‘ پروگرام میںووٹر لسٹ سے خارج شہریوں سے گفتگو
نئی دہلی۔27؍اکتوبر ( ایجنسیز) کانگریس قائد راہول گاندھی نے کہا ہے کہ ملک میں ’ووٹ چوری‘ اعلیٰ سطح سے کی جا رہی ہے اور کروڑوں شہریوں کو حقِ رائے دہی سے محروم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار استعفیٰ نہیں دیتے یا وزیر اعظم نریندر مودی انہیں عہدے سے نہیں ہٹاتے۔وہ منگل کو دہلی کے علاقے تریلوک پوری میں منعقدہ ’جن سنوائی‘ پروگرام میں شریک ہوئے جہاں انہوں نے ان شہریوں سے گفتگو کی جن کے نام ووٹر فہرستوں سے خارج کیے گئے ہیں۔کانگری اور دیگر اپوزیشن جماعتیں کافی عرصے سے ووٹر فہرستوں میں بے ضابطگیوں کا معاملہ اٹھا رہی ہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اب ملک بھر میں لوگ سمجھ رہے ہیں کہ ووٹ چوری مبینہ طور پر اعلیٰ سطح پر ہو رہی ہے۔ راہول گاندھی کے مطابق تریلوک پوری میں عوامی سماعت کے دوران چار پولنگ مراکز سے 416 ووٹروں کے نام ’غیر قانونی طور پر‘ حذف کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر اپوزیشن کے سوالات کا جواب نہ دینے کا الزام لگایا۔انہوں نے کہاکہ ہم پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔
راہول گاندھی نے کہا کہ ووٹر فہرستوں میں نام برقرار رکھنا ہر اہل شہری کے ووٹ ڈالنے کے حق کیلئے ضروری ہے۔کانگریس رہنما نے وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا الزام تھا کہ حکومت ایسا نظام بنانے کی کوشش کر رہی ہے جس میں چند ارب پتیوں کے مفادات کو ترجیح دی جائے جبکہ غریب شہری اپنے حقوق سے محروم رہیں۔ انہوں نے کہا کہ مودی صرف امیروں کا ہندوستان بنانے پر تلے ہیں۔راہول گاندھی نے سوال کیا کہ غریب لوگوں کے نام ووٹر فہرستوں سے کیوں نکالے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایسا نیا ہندوستان بنانے کی کوشش ہے جہاں بالخصوص غریبوں کے حقوق کمزور ہوں اور نظام چند ارب پتیوں کے مفاد میں کام کرے۔تریلوک پوری کے پروگرام میں بھارتی کمیونسٹ پارٹی (مارکسسٹ۔لیننسٹ) لبریشن کے جنرل سیکریٹری دیپانکر بھٹاچاریہ، سماجی کارکن یوگیندر یادو، سینئر وکیل پرشانت بھوشن سمیت کئی رہنما اور سیول سوسائٹی کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔