سزا کے باوجود بھی انتخابی مہم ختم نہیں کروں گا: ٹرمپ

,

   

سابق صدر کو مزید 36 الزامات کا سامنا، آئین میں انتخابی مہم روکے جانے کا کوئی تذکرہ نہیں

واشنگٹن : امریکہ کے سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا کہنا ہیکہ اگر ’انہیں کسی فوجداری تحقیقات کے نتیجے میں سزا ہو بھی گئی تو اس کے باوجود وہ 2024 کے صدارتی انتخابات کیلئے اپنی انتخابی مہم کو ختم نہیں کریں گے۔ رپورٹ کے مطابق ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے ڈونالڈ ٹرمپ نے خود پر لگنے والے متعدد الزامات پر بات کی جس میں ریڈیو میزبان جان فریڈرکس کے اس سوال پر کہ کیا سزا سنائے جانے سے ان کی مہم رک جائے گی؟ ڈونالڈ ٹرمپ نے جواب دیا کہ بالکل نہیں۔ آئین میں ایسا کچھ نہیں ہے جو یہ کہتا ہو۔ سابق امریکی صدر کا کہنا تھا کہ بائیں بازو کے بنیاد پرست مجھے پاگل بھی کہہ رہے ہیں، یہ نہیں روکے گا۔ یہ لوگ بیمار ہیں اور وہ جو کچھ کر رہے ہیں وہ بالکل بھیانک ہے۔ سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ پر گذشتہ ماہ خفیہ دستاویزات کے مقدمہ میں پہلی بار فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ ٹرمپ پر وائٹ ہاؤس سے نکلنے کے بعد اعلٰی خفیہ نیوکلیر اور دفاعی معلومات اپنے پاس رکھ کر قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کا الزام ہے۔امریکی محکمہ انصاف نے ڈونالڈ ٹرمپ کے خلاف 36 سے زائد الزامات میں مزید اضافہ کیا ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ کو ایک سول مقدمہ میں ایک جج نے 1990 کی دہائی میں مین ہٹن میں ایک مصنفہ کے ساتھ زیادتی کا مرتکب قرار دیا تھا۔ ٹرمپ کو نیو یارک میں ناجائز تعلقات کو چھپانے کیلئے کی جانے والے ادائیگی کے معاملے میں درجنوں سنگین الزامات کا سامنا ہے۔ 2020 کے انتخابات کے حوالے سے ریاستی اور وفاقی تحقیقات میں بھی ان پر فرد جرم عائد کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ دستاویزات کی تحقیقات میں ایک اہم پیش رفت ہوئی جب خصوصی وکیل جیک سمتھ نے الزام لگایا کہ ٹرمپ نے فلوریڈا میں اپنے بیچ فرنٹ اسٹیٹ میں ایک کارکن سے تفتیش کاروں کو روکنے کے لیے نگرانی کی فوٹیج حذف کرنے کو کہا۔