سماج میں گوگل ڈاکٹر کا بڑھتا ہوا خطرناک رجحان

   

سرچ کرنے والوں میں 65 فیصد خواتین، غلط فہمیوں کو جنم دینے کا سبب بن رہا ہے
حیدرآباد۔/9 جنوری، ( سیاست نیوز) سماج میں گوگل ڈاکٹر کا بڑھتا ہوا رجحان خطرناک ثابت ہورہا ہے۔ کوئی بھی مسئلہ درپیش آجائے آگے پیچھے غور کئے بغیر اس بیماری کا علاج گوگل پر تلاش کرنے والوں کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے۔ مشہور سرچ انجن گوگل کے ساتھ ساتھ مختلف سوشل میڈیا کی اہمیت میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے۔ سردرد، جسم درد جیسی معمولی بیماریوں سے لے کر بڑی بڑی بیماریوں کے بارے میں آن لائن میں سرچ کرنا بہت سے لوگوں کی عادت بن چکی ہے۔ حال ہی میں سوشل میڈیا مختلف موضوعات پر زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں میں تیزی سے مقبول ہوا ہے۔ لوگ گوگل اور مختلف سوشیل میڈیا پر صحت سے متعلق علاج کے طریقہ کار، بیماریوں کے مسائل کو حل کرنے کیلئے ان کا استعمال کررہے ہیں۔ بیماری اور مسائل کے تعلق سے نہ صرف سرچ کررہے ہیں بلکہ کونسی دوا لینی چاہیئے اور علاج کیلئے کونسا طریقہ اپنایا جائے اس کی بھی معلومات کرتے ہوئے ڈاکٹر کی رائے حاصل کئے بغیر خود اپنا علاج کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں جو تشویش کا باعث ہے۔ جیسے جیسے یہ رجحان بڑھتا جارہا ہے دوسروں کو طبی مشورے دینے والے گوگل ڈاکٹرس کے نام سے پکارے جانے لگے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ایسے لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے جو کسی بھی طبی مسئلہ کی علامات اور اس سے متعلقہ علاج کے طریقوں کے بارے میں پہلے گوگل پر سرچ کرتے ہیں اور پھر متعلقہ ماہر ڈاکٹرس سے رجوع کرتے ہیں ۔ ڈاکٹرس اور طبی ماہرین نے اس کو خطرناک رجحان قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی مریض کیلئے یہ اچھی بات نہیں ہے کہ وہ پہلے زیادہ خوفزدہ ہوجائے اور آن لائن میں اپنے مسائل کا علاج یا حل تلاش کرنے کی کوشش کریں۔ ایک حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ’ ورٹیگو‘ میں مبتلاء زیادہ اتر افراد سوشل میڈیا پر معلومات اور علاج کے طریقے تلاش کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ سروے میں اس بات کا پتہ چلا ہے کہ ’ ورٹیگو‘ بیماری کے بارے میںادھیڑ عمر کے 54 فیصد، 27 فیصد بچے اور 19 فیصد عمر رسیدہ افراد نے سوشل میڈیا میں اس کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ مجموعی طور پر سرچ کرنے والوں میں 65 فیصد خواتین پائی گئی ہیں۔ اس سروے سے یہ پتہ چلا ہے کہ سوشل میڈیا دو دھاری تلوار کے مانند ہے۔ یہ نہ صرف کسی بھی بارے میں معلومات فراہم کرتا ہے بلکہ چند غلط فہمیوں کو بھی جنم دیتا ہے۔ لہذا احتیاط کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔2