سمجھوتہ ایکسپریس دھماکہ کے دہشت گرد اب بھی آزاد: ایک جائزہ

   

نئی دہلی : سمجھوتہ ایکسپریس دھماکوں میں ملوث شدت پسند 16 سال بعد بھی آزادی سے گھوم رہے ہیں اور لواحقین انصاف کے لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ 18 فروری 2007 کو دہلی سے لاہور آنے والی سمجھوتہ ایکسپریس میں ہوئے دھماکوں میں 40 سے زیادہ پاکستانی جاں بحق ہوگئے تھے۔ دہشت گردی کے واقعہ کو گزرے 16 سال بیت گئے لیکن لواحقین تاحال انصاف کے منتظر ہیں۔ سفاکانہ جرم کا اعتراف کرنے والے سوامی آسیمانند کو بھی بری کردیا گیا جو اس بات کی گواہی ہے کہ بی جے پی حکومت ہندوتوا سوچ پر کار بند ہے اور مودی سرکار میں دہشت گردوں کو سزا دینے کا رواج نہیں۔ یاد رہے کہ سوامی آسیمانند درگاہ اجمیر شریف اور مکہ مسجد سمیت مسلمانوں کے خلاف دہشت گردی کے خلاف کئی واقعات میں ملوث رہا ہے اور ہندوتوا کی محافظ حکومت مودی سرکار میں اسے کھلی چھوٹ دیدی گئی ہے۔ دہشت گردی کے اس واقعہ کو 16 سال گزر جانے پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے مودی سرکار سے دھماکہ کرنے والے مجرموں کو پکڑنے اور قرار واقعی سزا دینے کی قانونی ذمہ داریاں پوری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ خیال رہے کہ جب سے مودی سرکار کی حکومت آئی ہے، ہندوستان دہشت گردوں کی محفوظ آماجگاہ بنتا جا رہا ہے۔