کولکتہ : سندیش کھالی میں غریب عوا م پر مظالم اور بی جے پی لیڈروں کے ذریعہ مبینہ طور پر آئی پی ایس آفیسر جسپریت سنگھ کو خالصتانی کہے جانے کی مذمت کرتے ہوئے بنگال کی سول سوسائٹی کی تنظیم‘‘ آواز’’ نے کہا ہے کہ سندیش کھالی کے واقعات کی آزادانہ اور منصفانہ جانچ ہونی چاہیے اور اس کے ساتھ ہی آئی پی ایس آفیسر کو خالصتانی کہنے والے بی جے پی لیڈر ان کے خلاف بھی قانونی کارروائی ہونی چاہیے ۔ سول سوسائٹی کی آرگنائزیشن ’آواز‘نے کلکتہ پریس کلب میں منعقد پریس کانفرنس میں کہا کہ سیاسی لیڈران ماحوال خراب کرنے کیلئے مذہب کا سہارا لے رہے ہیں ۔ سندیش کھالی میں ڈیوٹی انجام دے رہے آئی پی ایس آفیسر ڈیوٹی پر تھے اور وہ انتظامیہ کی ہدایت پر ہی بی جے پی وفد کو روکا تھا۔اس موقع پر بڑی تعداد میںدیگر طبقے سے تعلق رکھنے والے پولس اہلکار تھے مگر بی جے پی لیڈران نے صرف سکھ آئی پی ایس آفیسر کو نشانہ بنایا اس سے ان کی ذہنیت اور سوچ کا انداز ہ ہوتا ہے کہ وہ اقلیتوں کو کس نظریہ سے دیکھتے ہیں۔ سکھ رہنما کنول سنگھ والیا نے کہا کہ خالصتانی کہے جانے سے کوہم پرکوئی فرق نہیں پڑتا ہے مگر یہ اس لیڈر کی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے ۔خالصتانی کا طعنہ آج کل کسان تحریک کے مخالفین آئے دن ہمیں دے رہے ہیں اس کے باوجود ہم اس نفرت کا سامنا کرتے ہوئے ملک کی خدمت انجام دے رہے ہیں ۔مگراس طرح کے نعروں سے ملک تقسیم ہوتا ہے اور اس سے ملک کے سیکولر کردار کو شدید نقصان پہنچتا ہے ۔اس لئے ہمارا مطالبہ ہے کہ اس کی جانچ کی جائے اور آئی پی ایس آفیسرکے ساتھ بدسلوکی کرنے والے بی جے پی لیڈران کو کٹہرے میں کھڑا کیا جائے ۔