سونیاگاندھی نے کہاکہ حزب اختلاف کے تعمیری مشوروں کو سننے کے بجائے مرکزی وزرا ء تجاویز پیش کرنے والے حزب اختلاف کے قائدین کو نشانہ بنانے کے کام پر مامور کردئے گئے
نئی دہلی۔ کویڈ برائے کو حل کرنے میں ”بڑے پیمانے کی تیاری“ اور”اختیار طریقہ کار“ کے لئے مودی حکومت کو مورد الزام ٹہراتے ہوئے کانگریس صدر سونیا گاندھی نے نے ہفتہ کے روز متعدد تجاویز پیش کئے جس میں ٹیکہ انداز کی عمر کو 25سال تک لانے اور لوگوں کو پیسے فراہم کرنا شامل ہے۔
کانگریس ورکنگ کمیٹی(سی ڈبلیو سی) اجلاس کی قیادت میں اپنے کلیدی کلمات کے دوران گاندھی نے مرکز پربعض ریاستوں کے ساتھ ترجیحی رویہ اختیار کرنے کا الزام عائد کیا وہیں کانگریس او راپوزیشن پارٹیوں کی برسراقتدار ریاستوں کی جانب سے کی گئی درخواست پر ”مجرمانہ خاموشی“ اختیار کرنے کا مورد الزام بھی ٹہرایاہے۔
سونیا گاندھی نے زوردیا کہ مذکورہ کانگریس کا ہمیشہ یہی ماننا ہے کہ کویڈ19سے لرائی ایک قومی چیالنج ہے جس کو پارٹی سیاست سے بالاتر رکھ کر کام کرنا چاہئے۔
انہوں نے کہاکہ ”ہم نے فبروری مارچ2020سے ہی اپنا دست تعاون بڑھا یاہے۔ تاہم ہم اس حقیقت کو فراموش نہیں کرسکتے کہ کویڈ19وباء کی دوسری لہر ملک میں تیزی سے پھیل رہی ہے۔
ایک سال کی تیاری کے باوجود‘ افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ ہم بری طرح اس میں پھنسے ہوئے ہیں“۔سونیاگاندھی نے کہاکہ حزب اختلاف کے تعمیری مشوروں کو سننے کے بجائے مرکزی وزرا ء تجاویز پیش کرنے والے حزب اختلاف کے قائدین کو نشانہ بنانے کے کام پر مامور کردئے گئے۔
شریمتی گاندھی نے زوردے کر کہ”میں او رتو ہی بحث نہایت غیر ضروری او ربچکانہ ہے“۔
انہوں نے حکومت کودئے گئے اپنے مشوروں میں کہاکہ وہ ٹیکہ کی ترجیح 25سال یا اس سے کم عمر کے لوگوں کو بھی دی جانی چاہئے بالخصوص انہیں جو استھما‘ ضیابطیس‘ گردوں کے عارضی اور جگر کے امراض وغیرہ کا شکار ہیں۔
مذکورہ سی ڈبیلو سی کے اجلاس میں پارٹی کے سابق صدر راہول گاندھی‘ جنرل سکریٹریز اور دیگر مستقل ممبرس کے علاوہ پارٹی کے ریاستی انچارج نے شرکت کی ہے