Friday , August 23 2019

سیاست کی اپنی الگ زباں۔ سید فیصل علی کا محاسبہ

کرٹانک میں سیاسی ناٹک کلائمکس پر ہے۔

کلائمکس کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا اسکا پتہ پیر کو چلے گا۔

جے ڈی ایس اور کانگریس کی کمارا سوامی حکومت اکثریت حاصل پائے گی یانہیں‘

کیونکہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے نئی پیچیدگی پیدا ہوگئی ہے کہ باغی ممبران اسمبلی کو ایوان کی کاروائی میں حصہ لینے پر مجبور نہیں کیاجاسکتا۔

چنانچہ کورٹ‘ اسپیکر او رگورنر کے ٹکراؤ میں کس کی جیت ہوگی؟ یہ 22جولائی کو پتہ چلے گا۔

لیکن کرناٹک میں جو بازیگری ہورہی ہے وہ ہندوستانی سیاست کا ایسا چہرہ ہے جس سے ہر ذی شعور خوف زدہ ہے کہ ایک منتخب سرکاری کو کس طرح متزلزل کیاجاسکتا ہے‘ کیسے سرکار گرائی جاسکتی ہے یابنائی جاسکتی ہے؟

سیاسی شطرنج پر باغی مہروں کے ذریعہ کیسے شہ مات کا کھیل کھیلا جاسکتا ہے؟ وہ آج کی بے اصول سیاست کا چہرہ ہے۔جولائی 7سے کرناٹک کو سیاسی بحران کا سامنا ہے۔

سولہا اراکین اسمبلی نے استعفیٰ دیدیا ہے۔ کمارا سوامی اپنی سرکاری بچانے کے لئے ہر چال چل رہے ہیں تو بی جے پی ہر حربہ استعمال کررہی ہے‘

ایک ہی دن میں فلورٹسٹ کا مطالبہ کررہی ہے‘ لیکن ستم تو یہ ہے کہ کرناٹک کے بحران کا حل کرنے کے لئے مرکز سے لے کر گورنر اور کورٹ تک سامنے آگیاہے۔

جبکہ کسی بھی اسمبلی یاپارلیمنٹ کا سربراہ اسپیکر ہی ہوتا ہے‘ اسی کے فیصلے ہدایت اور موجودگی میں ایوان کی کاروائی تکمیل ہوتی ہے‘

اسپیکر کو کوئی کورٹ‘ گورنر یا مرکز پابند نہیں کرسکتا ہے کہ وہ ایوا ن کو کیسے چلائے یاہدایات کے مطابق فلورٹسٹ کے لئے وقت مقرر کرے‘

لیکن الٹا چلنا‘ لیگ سے ہٹ کر چلنا‘ روایتکو نظر انداز کرنا‘ جمہوری فکر کے بجائے ایک مخصوص سونچ کے تحت ہر مخالف نظریہ کو سبوتاج کرنا آج کی منقسم مزاج سیاست کا چہرہ ہے‘

جس سے ہر اپوزیشن لیڈر‘ سیاست داں‘ دانشوار‘ صحافی ڈرا اور سہما سا ہے کہ اگر اس نے زیادہ کل پرزے نکالے تو اس کی اوقات بتادی جائے گی۔

نتیجہ یہ ہے کہ مفاد پرست سیاست دانوں میں بھگدڑ سی مچی ہوئی ہے۔

بنگال سے گوا تک پارٹی میں توڑ پھوڑ کا کھیل جارہی ہے۔ بی جے پی کے سینئر رہنما مرکزی وزیرکیلاش وجئے ورگیا بنگال میں جلد ممتا سرکار گرجانے کا دعوی کررہے ہیں توکرناٹک میں یدی یوراپا بی جے پی حکومت بنانے کا دعوی پارلیمانی انتخاب کے بعد سے ہی کرنے لگے تھے‘

آج کرناٹک میں یہ دعوی حقیقت کی شکل اختیار کرتا ہوا دیکھائی دے رہا ہے۔اگر چہ کرناٹک میں اعتماد کی تجویز کو لے کر سیاسی جنگ کی معیاد مزید بڑھ گئی ہے۔

گورنر کے ذریعہ دوبارہ بھیجی گئی ہدایت کو اسپیکر نے کوئی اہمتینہیں دی‘ انہو ں نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو بھی نظر انداز کریا ہے جس میں وقت متعینہ کے اندر فلور ووٹنگ کرانے کی بات کہی گئی ہے۔

اسپیکر کا صاف کہنا ہے کہ کسی کو بھی یہ اختیار نہیں کہ ایوان کی کاروالی کے لئے پابند کرے‘ اسی اختیار کے تحت اسپیکر نے اب کرناٹک اسمبلی کی کاروائی پیر تک ملتوی کردی ہے۔ اعتماد کی تجویز پرووٹنگ 22جولائی کو ہوسکتی ہے۔

اب کمارا سوامی اپنی سرکاری بچائیں گے یانہیں؟ سوال یہ نہیں ہے اصل سوال تو یہ ہے کہ اس معاملے میں عدالت کی مداخلت نے کمار ا سوامی حکومت کے آگے بڑا سوال کھڑا کردیاہے جس کی رو سے اپنی ہی پارٹی کے ایم ایل اے اپنی ہی حکومت کے حق میں ووٹنگ کے لئے مجبور نہیں کئے جاسکتے ہیں۔

کورٹ نے حکم دیاہے کہ جے ڈی ایس اور کانگریس وہپ جاری نہیں کرسکتی۔ ماہرقانون کے مطابق یہ فیصلے کنہیں نہ کہیں مخالف سیاسی انحراف قانون کی منافی ہے جبکہ بی جے پی کو وہپ جاری کرنے کا اختیار برقرار ہے‘ اگر یہی فیصلہ دیناتھا تو اپوزیشن اور رولنگ پارٹی کو کہا جاسکتا تھا کہ کوئی بھی پارٹی وہپ جاری نہیں کرسکتی۔

حالانکہ سپریم کورٹ اس معاملے میں دستوری توازن کی بات کررہا ہے مگر یہ توزان کہاں اور کیسے برقرار ہے؟۔حیرت تو یہ ہوتی ہے کہ پہلی مرتبہ جج صاحبان نے اسپیکر کو پابند کرنے کی سعی کی ہے لیکن جب اسپیکر نے اپنا پاور دیکھا یااور واضح کیاکہ وہ خود مختار ہے‘

ایوان میں اس کی صوابدیدپر ہی فیصلہ ہوگا‘ چنانچہ دوسرے آرڈر میں جج صاحبان نے اپنی غلطی کو سدھارا اور کہاکہ ووٹنگ کے لئے اسپیکر وقت لے سکتے ہیں‘

لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہاکہ حکمراں جماعت فلورٹسٹ کے دوران اپنے اراکین اسمبلی کے لئے وہپ جاری نہیں کرسکتی‘ یعنی حکمراں اراکین اسمبلی کو پابند نہیں کرسکتی۔

دوسری طرف اسی فلور پر بی جے پی وہپ جاری کرتکے اپنے ایم ایل اے پرکنٹرول رکھ سکتی ہے۔ قانون کے ماہرین کہہ رہے ہیں کہ اس معاملے میں کہیں نہ کہیں چوک ہوئی ہے۔

وہپ جاری کرنے کاائین کے دسویں شیڈول کے تحت پارٹی کا حق ہے اگر اس طرح کی روایت چل پڑی تو مخالف سیاسی انحراف قانون بے معنی ہوجائے گاہر کمزور حکومت پر ہر وقت تلوار لٹکتی رہے گی۔

چنانچہ کانگریس نے بھی اسی پوائنٹ کے تحت اور گورنر کی مداخلت کو لے کر سپویم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔کرناٹک کا ڈرامہ کوئی نیا ڈرامہ نہیں ہے۔ پانچ ریاستوں میں بھی ایسے ہی سیاسی ڈرامے ہوچکے ہیں۔ فبروری21سال1998میں یوپی کی کلیان سنگھ حکومت برخواست کردی گئی تھی۔

جگدمپیکا پال تین دنوں کے لئے چیف منسٹر بنے اور 23فبوری کو ہائی کورٹ نے اس برخواستگی کو غیرائینی قراردیا۔ کلیاں سنگھ کی حکومت بحال ہوگئی۔

بہار میں 2000میں نتیش کمار کی سرکاری 8دنوں میں ہی گر گئی اور رابڑ ی دیوی وزیراعلی بن گئیں۔ اسی طرح ڈسمبر2016کو جئے للیتا کی موت کے بعد تمل ناڈو کو مہینوں تک سیاسی بحران کا سامنا کرنا پڑا تھا‘

جس میں ششی کلا کو شکست ہوئی تھی۔ اسی طرح 1مئی2018کو کرناٹک میں گورنر نے بی جے پی کو حکومت سازی کی دعوت دیدی اور یدی یورپا وزیراعلی بنے۔

حالانکہ پارٹی کو اکثریت حاصل نہیں تھی‘ پھر بھی انہیں اکثریت ثابت کرنے کے لئے پندرہ دنوں کا وقت ملالیکن وہ فلور ٹسٹ کے سامنا کئے بغیر ہی دودنوں بعد ہی مستعفی ہوگئے۔

اس کے بعد 19مئی 2018کو کانگریس جے ڈی ایس حکومت کی کمان کمارا سوامی نے سنبھالی جو فی الحال شدید سیاسی بحران کاشکار ہے

TOPPOPULARRECENT