سی ای سی کی تقرری کا نوٹیفکیشن، کانگریس کی تنقید

   

نئی دہلی: کانگریس نے نئے چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) کی تقرری کے نوٹیفکیشن پر حکومت پر تنقید کرتے ہوئے اسے مرکز کی من مانی قرار دیا اور کہا کہ بی جے پی حکومت ہر قدم پر آئین کی روح کو ٹھیس پہنچا رہی ہے ۔ پارٹی نے کہا کہ جب بدھ کو سپریم کورٹ میں سی ای سی کی تقرری سے متعلق معاملے کی سماعت ہونے والی ہے تو حکومت کو تقرری کے فیصلے کو ایک دن کے لیے ملتوی کرنے میں کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہیے تھی، لیکن وہ آئین کو تباہ کرنے میں لگی ہوئی ہے اور اس لیے ایسے من مانی قدم اٹھا رہی ہے ۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے اس پر سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے جلدی میں نصف شب نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے بارے میں نوٹیفکیشن جاری کیا ہے ۔ یہ ہمارے آئین کی روح کے خلاف ہے اور سپریم کورٹ نے متعدد معاملات میں اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ انتخابی عمل کے تقدس کے لیے سی ای سی کو غیر جانبدار متعلقہ فریق ہونا چاہیے ۔ ترمیم شدہ قانون نے سی ای آئی کو سی ای سی سلیکشن پینل سے ہٹا دیا اور حکومت کو سی ای سی کا انتخاب کرنے سے پہلے 19 فروری کو سپریم کورٹ کی سماعت تک انتظار کرنا چاہیے تھا۔