سی پی آئی قائدین نارائنا اور عزیز پاشاہ کا دورۂ پہلگام، عوام سے ملاقات

   

خوف کا ماحول برقرار، سیاحت میں کمی، دہشت گرد حملہ اور آپریشن سندور پر پارلیمنٹ میں مباحث کا مطالبہ
حیدرآباد 22 جولائی (سیاست نیوز) سی پی آئی کے قومی سکریٹریز ڈاکٹر کے نارائنا اور سید عزیز پاشاہ نے آج جموں و کشمیر کے پہلگام کا دورہ کیا جہاں دہشت گردوں نے سیاحوں کو نشانہ بنایا تھا۔ سی پی آئی قائدین نے پہلگام کے مقامی افراد سے بات چیت کی اور موجودہ صورتحال کے بارے میں دریافت کیا۔ پہلگام میں دہشت گرد حملہ کے بعد سے عوام میں خوف کا ماحول ہے اور سیاحوں کی تعداد میں غیرمعمولی کمی واقع ہوئی ہے۔ دہشت گرد حملہ کے بعد پہلگام اور دیگر علاقوں میں سیاحت پر بُرا اثر پڑا ہے۔ ڈاکٹر نارائنا اور عزیز پاشاہ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ مرکزی حکومت کو دہشت گرد حملہ کو روکنے میں ناکامی کی ذمہ داری قبول کرنی چاہئے۔ اُنھوں نے کہاکہ پہلگام حملہ کے بعد پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس طلب کرنے کے بجائے مرکزی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کو مختلف ممالک روانہ کیا جو کسی تفریح سے کم نہیں تھا۔ ڈاکٹر نارائنا نے کہاکہ مرکزی حکومت کو پہلگام اور دیگر متعلقہ اُمور پر پارلیمنٹ میں وضاحت کرنی چاہئے۔ اُنھوں نے کہاکہ مرکزی حکومت پارلیمنٹ میں وضاحت کے بجائے عوام کے درمیان مختلف دعوے کررہی ہے۔ آپریشن سندور کی کامیابی کا دعویٰ کیا گیا لیکن امریکی صدر کا بیان مختلف ہے۔ اُنھوں نے پارلیمنٹ میں پہلگام دہشت گرد حملوں اور آپریشن سندور پر تفصیلی مباحث اور حکومت کی جانب سے ہر نکتہ کی وضاحت کا مطالبہ کیا تاکہ عوام کا اعتماد بحال کیا جاسکے۔ ڈاکٹر نارائنا نے کہاکہ پہلگام میں ہر 200 گز کے فاصلہ پر فوج کا کیمپ موجود ہے باوجود اس کے دہشت گردوں کا کسی رکاوٹ کے بغیر پہونچ کر سیاحوں کو نشانہ بنانا باعث حیرت ہے۔ یہ انٹلی جنس کی کھلی ناکامی ہے۔ سی پی آئی قائدین نے کہاکہ آپریشن سندور کے بارے میں کئی شبہات پائے جاتے ہیں اور امریکی صدر نے سیز فائر کا کریڈٹ حاصل کرلیا ہے۔ مرکزی حکومت کو پارلیمنٹ میں امریکی صدر کے بیانات کا جواب دینا چاہئے۔1