دمشق، 21 ستمبر (ایجنسیز) شام نے تقریباً 20 لاکھ بچوں کو دوبارہ تعلیمی نظام میں شامل کرنے کے لیے کوششیں تیزکردی ہیں۔ ان اقدامات میں تعلیمی سطح جانچنے کے پروگرام، تعلیمی خلا کو دور کرنے کے لیے اقدامات اور تعلیم تک رسائی کو وسعت دینے کے منصوبے شامل ہیں۔ان کوششوں کے تحت وزارت تعلیم نے کو بتایا کہ صوبہ حسکہ میں اسکول سے باہر بچوں کی تعلیمی صلاحیتوں کا جائزہ لینے کے لیے امتحانات اور تشخیصی عمل مکمل کیا گیا۔ اس کا مقصد بچوں کی تعلیمی سطح کا تعین اور ان کی ضروریات کی نشاندہی کرنا ہے۔تشخیصی عمل کے ذریعے بچوں کی تعلیم میں پیدا ہونے والے خلا کا اندازہ لگایا جائے گا اور انہیں ان کی حقیقی صلاحیتوں کے مطابق مناسب جماعت اور تعلیمی سطح میں داخل کیا جائے گا۔ اس سے انہیں دوبارہ اسکول جانے اور چھوٹی ہوئی تعلیم مکمل کرنے میں مدد ملے گی۔وزیر تعلیم محمد عبدالرحمن ترکّو نے 14 ستمبر کو عوامی اسمبلی کے اجلاس میں بتایا تھا کہ اندازاً 20 لاکھ طلبہ نے تعلیم کا سلسلہ چھوڑ دیا ہے۔ انہوں نے اس کی وجوہات میں معاشی اور سماجی عوامل کے علاوہ بعض علاقوں میں اسکولوں کی عدم موجودگی کو بھی شامل کیا۔ترکّو کے مطابق رواں تعلیمی سال کے دوران طلبہ کی تعداد 60 لاکھ تک پہنچنے کی توقع ہے، جس کے باعث بڑھتے ہوئے داخلوں کو سنبھالنا وزارت تعلیم کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔